حج کا سنت طریقہ کیا ہے ؟ تفصیل سے ذکر کیجئے
حج کا مکمل طریقہ:
حاجی آٹھ ذی الحجہ کو فجر کی نماز مکہ میں پڑھ کر منیٰ کی طرف روانہ ہو ، منیٰ میں پہنچ کر پانچ نمازیں اپنے اپنے وقت پرادا کرے ,
نو ذی الحجہ کو فجر کی نماز منیٰ میں پڑھ کر منیٰ سے عرفات کے لئے روانہ ہوجائے ، عرفات پہنچ کر ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ظہر کے وقت میں ادا کرے اور غروبِ آفتاب تک عرفات میں رہے، غروب آفتاب کے بعد تلبیہ پڑھتے ہوئے عرفات سے مزدلفہ کی طرف روانہ ہوجائے۔
مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نمازیں عشاء کے وقت میں ادا کرے، رات مزدلفہ میں گزارے اور پھر دس ذی الحجہ کو فجر کی نماز مزدلفہ میں اد اکرنے کے بعد منیٰ کے لئے روانہ ہوجائے۔
منیٰ پہنچ کر رمی یعنی پہلے بڑے شیطان کو کنکریاں مارے ، حجِ تمتع یا قران کرنے والا دمِ شکر یعنی حج کی قربانی کرے، اس کے بعد حلق (سرمنڈا) کر احرام سے نکل جائے۔
یاد رہے کہ یہ تینوں کام (شیطان کو کنکریاں مارنا، قربانی کرنا اور حلق کرنا) اسی ترتیب سے واجب ہیں۔
حلق کرانے کے بعد وہ تمام ممنوعاتِ احرام حلال ہوجائیں گے ، جو احرام کی وجہ سے منع تھے ، سوائے بیوی کے جو طوافِ زیارت کے بعد حلال ہوگی۔
اس کے بعد طوافِ زیارت کرے، جو دسویں تاریخ کو کرنا افضل ہے، بارہ تاریخ کے سورج غروب ہونے تک کرسکتا ہے، اگر طوافِ قدوم کے ساتھ سعی نہیں کی، تو طواف زیارت کے ساتھ رمل بھی کرے اور اگر احرام کی چادریں اتار لی ہیں ، تو اضطباع بھی نہ کرے ، ورنہ اضطباع کرے ، اب طوافِ زیارت کے بعد بیوی بھی حلال ہوجائے گی۔
اس کے بعد منی میں قیام کرے، گیارہویں تاریخ کو زوال کے بعد تینوں جمرات کی رمی کرے ، اسی طرح بارھویں تاریخ کو بھی رمی کرے، پھر چاہے تو مکہ واپس آجائے ، افضل یہ ہے کہ تیرھویں کو زوال کے بعد رمی کرکے مکہ آئےـ
بس اب حج مکمل ہوچکا ، جب تک چاہے مکہ میں قیام کرے اور خوب طواف اور عمرہ کرے، مگر عمرہ تیرہ ذی الحجہ کے بعد کرے، کیونکہ نو سے تیرہ ذی الحجہ تک عمرہ کرنا منع ہے۔