میرے پاس میرے میکے اور سسرال کا زیور ہے ،جو مجھے شادی پہ ملا،میرے میاں کی کمائی کا ذریعہ نہیں ہے ،وہ میرا خرچہ نہیں اٹھاتا،کیا اس صورت میں مجھے اپنا زیور بیچ کر خود اور میاں کے حج کا انتظام کرنا چاہیئے،جبکہ دوبارہ زیور بننے کی کوئی امید نہیں اور وہ میں نے اپنے بچوں کے لئےرکھے ہیں۔
برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں!
واضح ہوکہ خاتون کے حق میں حج فرض ہونے کی شرط یہ ہے کہ اس کے پاس ضروریات اصلیہ سے زائد (ایام حج یا جن دنوں میں حج کی درخواستیں جمع ہوتی ہیں، میں) اتنا مال وغیرہ موجود ہو کہ ، وہ اپنا اور اپنے کسی بھی محرم کے حج کے اخراجات کا انتظام کرسکتی ہو ، تو اس پر حج شرعاً لازم ہے ،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے پاس اگر واقعۃً اتنا سونا ہو کہ ، اس کو فروخت کرکے خود بھی حج ادا کرسکتی ہو اور اپنے خاوند کو بھی حج کروا سکتی ہو،تو ایسی صورت میں سائلہ پر حج فرض ہوچکا ہے ،لہذا اسے چاہیئے کہ جلد از جلد حج ِ فرض ادا کرکے اس فریضہ سے سبکدوشی کی فکر کرے،تاہم خاوند کو ہی ساتھ لے جانا ضروری نہیں ہے ،بلکہ سائلہ اپنے کسی محرم کو بھی ساتھ لے جاسکتی ہے ۔
کما فی الدر المختار: (و) مع (زوج أو محرم) ولو عبدا أو ذميا أو برضاع (بالغ) قيد لهما كما في النهر بحثا (عاقل والمراهق كبالغ) جوهرة (غير مجوسي ولا فاسق)لعدم حفظهما (مع) وجوب النفقة لمحرمها (عليها) لان محبوس (عليها) لامرأة حرة ولو عجوزا في سفر اھ (464/2)
وفیه ایضاً: ویعتبر فی المراۃ ان یکون لھا محرم تحج به (الیٰ قولہ) ونفقة المحرم علیھا لانھا تتوسل به الیٰ اداء الحج اھ (256/1)۔
وفی الفتاوی التاتارخانیة: والمراۃ فی وجوب الحج علیھا کالرجل،غیر ان لھا شرطین شابة کانت او عجوزا،احدھما ان یکون خروجھا مع زوجھا او مع ذی رحم محرم،والشرط الثانی ان تکون خالیة عن العدۃ اھ (475/3) والله اعلم