کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام و علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی خاتون مرغی کا گوشت کسی ہمسائے سے لے کہ ابھی ہمیں دیدو ،میرے پاس آئے گا ،تو واپس کردوں گی ،تو ایسا کرنا جائز ہے؟ شبہ اس لئے ہوا ہے کہ مرغی ذوات الامثال میں سے نہیں، تو بطورِ قرض اس کا لینا صحیح نہیں ،تو گوشت کا بھی یہی حکم ہوگا؟
واضح ہو کہ جانور (گائے، بکری، اور مرغی وغیرہ) تو ذوات القیم ہیں، لہٰذا ان چیزوں کو بطورِ قرض لینا دینا شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ گوشت (خواہ مرغی کا ہو یا گائے اور بکری وغیرہ کا ) چونکہ ذوات الامثال یعنی موزونی ہے ،اور موزونی اشیاء کا بطور ِقرض تبادلہ کرنا شرعاً جائز ہے، لہٰذا پڑوسیوں کا بوقتِ ضرورت آپس میں مرغی کے گوشت وغیرہ کا وزن کر کے بطور ِقرض لینا دینا بھی شرعاً جائز اور درست ہے۔
ففی الفتاوى الهندية: ويجوز القرض فيما هو من ذوات الأمثال كالمكيل والموزون والعددي المتقارب كالبيض ولا يجوز فيما ليس من ذوات الأمثال كالحيوان والثياب والعدديات المتفاوتة اھ (3/ 201)۔
وفی حاشية ابن عابدين: قوله ( استقراض العجين وزنا يجوز ) هو المختار . مختار الفتاویٰ, واحترز بالوزن عن المجازفة فلا يجوز اھ (5/ 167)۔
وفی الدر المختار: (فيصح استقراض الدراهم والدنانير وكذا) كل (ما يكال أو يوزن أو يعد متقاربا فصح استقراض جوز وبيض) وكاغذ عددا (ولحم) وزنا وخبز وزنا وعددا كما سيجيء اھ (5/ 162)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله في مثلي) كالمكيل والموزون والمعدود المتقارب كالجوز والبيض. (5/ 161)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0