کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص اپنے گھر سے تقریباً ۱۳۰ کلومیٹر دور ملازمت کرتا ہے ، تین چار ہفتوں بعد گھر آ جاتا ہے ، اس بار وہ گھر سے مقامِ ملازمت آکر پندرہ دن سے پہلے کسی اور مقام پر چار دن کے لۓ جانا چاہتا تھا ، لیکن ارادہ کینسل ہو گیا ، تو کیا اب یہ اپنے مقامِ ملازمت پر مقیم ہے یامسافر ؟ پھر اس پندرہ دنوں کے دوران مقامِ ملازمت سے دوسری جگہ جماعتوں کی نصرت کے لۓ جانا پڑا، ایک جماعت "سی ہر کھوئی" میں ۵۵ کلومیٹر دور تھی ، دوسری جماعت "گاہ خرچ" میں اس سے آٹھ کلومیٹر دور بستی تھی ، جب وہاں پہنچا تو معلوم ہوا کہ جماعت" نمور یو نامی" بستی میں ہے ، اور اس کا راستہ واپس "سی ہر کھوئی" آگر وہاں سے دو کلومیٹر لنک روڈ پر دس کلومیٹر فاصلے پر ہے، "نمور یو "پہنچ کر میٹر چیک کیا ، تو ۸۳ کلومیٹر مقامِ ملازمت سے فاصلہ ہوا،( لیکن جائے ملازمت اور "نمور یو "بستی کے درمیان مسافتِ شرعی سے کم فاصلہ ہے ) تو"مور یو بستی" میں نمازِ عصر دور کعت پڑھی ، پھر عشاء سے پہلے مقامَ ملازمت کے لۓ واپس نکلے ، مقامِ ملازمت سے ۱۲ کلومیٹر پہلے عشاء کی نمازِ قصر پڑھی ، پھر اگلے دن ظہر عصر مقامِ ملازمت پر بھی قصر پڑھی ، اب پوچھنا یہ ہے کہ ان جگہوں پر جو نماز قصر پڑھی وہ درست ہے یا نہیں ، اور مقامِ ملازمت میں جب تک پندرہ دن کی اقامت نہ ہو جائے، میں مسافر ہوں یا مقیم ؟
شخصِ مذکور جب اپنی جائے ملازمت میں ایک بار پندرہ روز سے زیادہ قیام کر چکا تھا ، تو اب وہ اس جگہ پر مقیم متصور ہو گا ، جب تک کہ اپنی جائے ملازمت کو با قاعدہ چھوڑنے کا عزم وارادہ کر کے وہاں سے اپنا سامان مال ومتاع نہ لے جائے، تب تک مذکور جگہ کی اقامت باقی رہے گی، اس لۓ جائے ملازمت میں پوری نماز پڑھنا واجب ہو گا، نیز شخصِ مذکور جب مقامِ ملازمت سے سفر کے ارادے سے دوسری بستیوں کی طرف جماعتوں کی نصرت کے لۓ گیا ، اور "نمور یو بستی" میں نمازِ عصر اور واپس مقامِ ملازمت کی طرف جاتے ہوئے راستے میں عشاء کی نماز جو قصر پڑھی تھی، جائے ملازمت اور "نمور یو بستی" کے در میان سفرِ شرعی کی مسافت نہ ہونے کی وجہ سے یہ دونوں نمازیں ادا نہیں ہوئیں ، اسی طرح شخصِ مذکور پر جائے ملازمت میں پہنچنے کے بعد پوری نماز پڑھنا لازم تھا ، اس نے جائے ملازمت پر جو نماز یں قصر پڑھی ہیں وہ نہیں ہوئیں ، اس لۓ ان کا اعادہ کرنا بھی لازم ہے ۔
فی البحر الرائق شرح كنز الدقائق: كوطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر اھ( 2 / 147 )۔
وفي الدر المختار: قال في البحر: وعلى هذا قالوا أمير خرج مع جيشه في طلب العدو ولم يعلم أين يدركهم فإنه يتم وإن طالت المدة أو المكث ؛ أما الرجوع فإن كانت مدة سفر قصر. اھ ( 2 / 122 )۔
وفی المبسوط للسرخسی: قال: - رضي الله تعالى عنه - ( وأقل ما يقصر فيه الصلاة في السفر إذا قصد مسيرة ثلاثة أيام ) وفسره في الجامع الصغير بمشي الأقدام وسير الإبل فهو الوسط ؛ فإذا جاوز عمران المصر صار مسافرا لاقتران النية بعمل السفر.اھ (1 / 235)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4