السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
خانہ کعبہ میں حجر ِاسود کو ہجوم کی صورت میں جو بوسہ دیا جاتا ہے جس میں مرد و خواتین کا اختلاط ہوتا ہے، اور دوسروں کو ایذا پہنچائی جاتی ہے،جب کہ خود زخمی ہونے کا احتمال بھی ہوتا ہے،اس صورت کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا یہ جائز ہے یا ناجائز؟کیا یہ امتِ مسلمہ کے لئے بحیثیت مجموعی نحوست اور دیگر بد اثرات کا باعث بن رہا ہے؟
واضح ہو کہ حجر ِاسود کو بوسہ دینا مستحسن اور افضل عمل ہے اور جب رش نہ ہو اور آسانی کے ساتھ بغیر کسی کو تکلیف دیے بوسہ دینا ممکن ہو ، تو اس کو بوسہ دینا چاہئے،لیکن اگر اس عمل کی وجہ سے دوسروں کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو (جیسا کہ آج کل دورانِ طواف کثرت سے پیش آتا ہے ) تو ایسی صورت میں اس مستحب عمل کو ترک کرنا لازم ہے ،بلکہ ایسی صورت میں دور سے ہی استلام (ہاتھ کا اشارہ) کیا جائے۔
کما فی الھدایة: واستلمه إن استطاع من غير أن يؤذي مسلما " لما روى أن النبي عليه الصلاة والسلام قبل الحجر الأسود ووضع شفتيه عليه وقال لعمر رضي الله عنه " إنك رجل أيد تؤذي الضعيف فلا تزاحم الناس على الحجر ولكن إن وجدت فرجة فاستلمه وإن لا فاستقبله وهلل وكبر " ولأن `الإستلام سنة والتحرز عن أذى المسلم واجب اھ(137/1) واللہ اعلم