کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حالتِ سفر میں فرائض کے علاوہ دیگر سنن کا کیا حکم ہے؟ یہ بالکل معاف اور ساقط ہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے؟ نیز وتر کا کیا حکم ہے کہ وہ بھی ساقط ہے یا پڑھنا لازم ہے؟
حالتِ سفر میں چار رکعت والی نماز میں تنہا یا کسی مسافرامام کی اقتداء میں پڑھنے کی صورت میں دو رکعت پڑھنا اور وترسمیت باقی فرض نمازوں کو پورا پڑھنا لازم ہے، جبکہ سنتوں کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر سفر قرار کا ہو اور گاڑی ، قافلہ کے نکلنے وغیرہ کے اعذار مانع نہ ہوں تو سنتیں معاف نہیں ان کا پڑھنا بھی لازم ہے اور اگر گاڑی قافلہ وغیرہ کے اعذار در پیش ہونے کی وجہ سے سفر جلدی کا ہو تو اس صورت میں سنتیں چھوڑنے کی گنجائش ہے ۔
ففي الفتاوى الهندية: ولا قصر في السنن، كذا في محيط السرخسي، وبعضهم جوزوا للمسافر ترك السنن والمختار أنه لا يأتي بها في حال الخوف ويأتي بها في حال القرار والأمن، هكذا في الوجيز للكردري اھ (1/ 139)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4