اگر ایک مرد کنواری خاتون سے دوسری شادی کرے پہلی بیوی کی موجودگی میں، اور شادی انجام پا جانے کے بعد دوسری بیگم سے طے کیے جانے والے تمام عہد و پیمان سےمنکر ہوجائے اور کہے کہ وہ تمام باتیں اس نے اللہ کو گواہ بنا کر محض مصلحت کی بناء پر شادی کے لئے قائل کرنے کو کی تھیں اور مزید یہ کہ دوسری بیگم کو نان و نفقہ دینے کا بھی حق ادا نہ کرے اور نہ ہی شوہر ہونے کی حیثیت سے باقی کوئی ذمہ داری نبھا رہا ہو ، اور گھر والوں اور خاندان کے کہنے میں آ کے دوسری بیگم کو اپنے ساتھ بھی نہ رکھے، اور دورانِ حمل اس پر ذہنی اور جسمانی تشدد کرے جب کہ وہ خاتون اپنے علاج اور شوہر و گھر کی بھی دیگر اخراجات خود جاب کر کے پورے کر رہی ہو تو ، اس صورت میں کیا اس کا خلع لینا جائز ہ ہے؟ ،کیا اس کے شوہر پر گناہ عائد ہو گا ؟
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی اور الزام تراشی سے کام نہ لیا گیا ہو ,اس طور پر کہ سائلہ کا شوہر شادی سے پہلے کیے ہوئے وعدوں سے مکر رہا ہو اور وہ سائلہ کے بنیادی حقوق بھی ادا نہ کرتاہو , تو سائلہ کو چاہیئے کہ خاندان کے بڑوں کو بٹھاکر شوہر کو سمجھانے کی کوشش کرے اور اگر نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو سائلہ شوہر کو طلاق یا مہر وغیرہ کے عوض خلع پر راضی کرکے خلع لے سکتی ہے ، جبکہ عدالت کے ذریعہ شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع لینے سے خلع نہیں ہوگا،بلکہ سائلہ کو اگر کورٹ سے خلع لینےکی ضرورت ہو تو سائلہ کو چاہیئے کہ وکیل کو کہدے کہ میرے کیس میں خلع کے بجائے تنسیخِ نکاح کے الفاظ استعمال کرے, اور درخواست بھی تنسیخِ نکاح کو بنیاد بنا کر دائر کرے نہ کہ خلع کی بنیاد پر -
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1