کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک تبلیغی جماعت کی تشکیل رائے ونڈ مرکز سے مثلاً سر گو دھا کے لۓ تیس دن کے واسطے ہو جاتی ہے ، اب اگر شہر کے اندر کام کرنا ہو تو پھر کوئی اشکال نہیں، کیونکہ ایک مقام میں پندرہ دن سے زیادہ ٹھہرنا ہوتا ہے اور اس صورت میں جماعت والوں کا مقیم ہونا اور پوری نماز پڑھنا سمجھ میں آتا ہے ، لیکن اگر ان کی تشکیل سرگودھا کے گرد ونواح کے قصبات اور دیہات کے لۓ ہو تو اس صورت میں کام کی ترتیب یہ ہوتی ہے کہ جماعت سرگودھا کے مقامی مرکز میں ایک دن قیام کرتی ہے، اگلے ہفتے کے بعد والے دن مرکز کے احباب جماعت کو ایک فہرست مختلف دیہات سے متعلق دیتے ہیں، جن میں جماعت والوں نے تبلیغی کام کرنا ہوتا ہے، ہر دیہات میں دو یا تین دن کا قیام تجویز کیا جاتا ہے اور بعض دفعہ تو رائے ونڈ مرکز سے ہی دیہات کی فہرست حوالہ کی جاتی ہے تواب اس صورت کا حکم سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آیا وہ حضرات مقیم ہوں گے یامسافر ؟ اگر یہ کہیں کہ وہ مقیم ہوں گے تو اشکال ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے تو ایک مقام پر پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت ہی نہیں کی، بلکہ مختلف دیہات ( جن کے نام بھی مختلف ہوتے ہیں اور آپس میں فاصلے پر بھی ہوتے ہیں ) میں سے ہر ایک میں دو یا تین دن کا قیام ہوتا ہے اوراگر ان کو مسافر کہیں تو بھی اشکال یہ ہوتا ہے کہ ان کا قیام سرگودھا کے گرد ونواح ’’جو مجموعی طور پر ایک مقام ہے ‘‘ میں پندرہ دن سے زائد کا ہے لہٰذا ان کو مقیم شمار کرنا چاہیۓ، بہرحال آپ حضرات سے مندرجہ ذیل امور کی تفصیلی وضاحت مطلوب ہے :
۱۔ فقہاء نے تو بتا یا ہے کہ ایک جگہ میں پندرہ دن یا اس سے زائد قیام کی نیت ہو تو مقیم شمار کیا جائےگا تو اس ایک جگہ کی کیا تحقیق ہے ؟
۲۔ اگر ایک شخص سرگودھا شہر کے اندر مختلف مکانات میں پندرہ دن قیام کی نیت کرے تو آیا وہ مقیم شمار ہو گا یا مسافر ؟
۳۔ کسی شہر کے گردو نواح میں مختلف گاؤں اور دیہات اس شہر کی تبعیت میں ایک مقام شمار ہونگے؟ براہِ کرم ان سوالات کا واضح شرعی جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
اس سلسلہ میں درجِ ذیل فقہی روایت سے بخوبی معلوم ہورہا ہے کہ جب ایسے مختلف مضافات اور دیہاتوں کا سفر ہو کہ ان میں سے ایک مقام اور دیہات کی حد بندی دوسرے سے جدا اور علیحدہ ہو اور وہ فاصلہ پر آباد ہوں اور مختلف ناموں سے موسوم ہوں، ملے ہوئے نہ ہوں اور ابتدائے سفر سے مسافت شرعی پر بھی واقع ہوں تو ایسے دو یا اس سے زائد مختلف شہروں ، دیہاتوں یا ایک مقام شہر ہو اور دوسرا مقام اس شہر کا دیہات ہو اور وہاں پندرہ یا اس سے زائد ایّام کے لۓ جانا پڑ جائے تو اس صورت میں یہ شخص یا جماعت شرعاً مقیم شمار نہیں ہوں گے،بلکہ مسافر کے حکم میں ہونے کی بناء پر اس دوران نماز میں قصر کریں گے اور اگر ایک ہی شہر کی مختلف مسجدوں اور محلوں میں تشکیل ہوئی ہو تو وہاں پندرہ یوم کی نیت سے ٹھہرنا اقامت کہلائے گا اور نماز پوری پڑھنی ہو گی۔
فی بدائع الصنائع: (وأما) اتحاد المكان: فالشرط نية مدة الإقامة في مكان واحد؛ لأن الإقامة قرار والانتقال يضاده ولا بد من الانتقال في مكانين وإذا عرف هذا فنقول: إذا نوى المسافر الإقامة خمسة عشر يوما في موضعين فإن كان مصرا واحدا أو قرية واحدة صار مقيما؛ لأنهما متحدان حكما، ألا يرى أنه لو خرج إليه مسافرا لم يقصر فقد وجد الشرط وهو نية كمال مدة الإقامة في مكان واحد فصار مقيما وإن كانا مصرين نحو مكة ومنى أو الكوفة والحيرة أو قريتين، أو أحدهما مصر والآخر قرية لا يصير مقيما؛ لأنهما مكانان متباينان حقيقة وحكما، (إلی قوله) فعلى هذا إذا نوى المسافر الإقامة فيه خمسة عشر يوما يصير مقيما اھ (۱/۹۸)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4