السلام علیکم!
بندہ کو ایک مسئلہ درپیش ہے، لہٰذا آپ صاحبان قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت فرما دیجیۓ ، مسئلہ یہ ہے کہ ہماری مسجد سے کراچی اجتماع سے ایک جماعت چلّہ کے لۓ بلوچستان کے علاقے تفتان میں گئی، ۳۰ دن کی تشکیل تھی، وہاں تین دن ایک مسجد میں کام کیا اس کے بعد قریب مسجد میں کام کیا ، اس کے بعد اگلی مسجد تک فاصلہ اتنا ہے، جیسے محمدی کالونی سے سہراب گوٹھ۔
اس علاقہ میں نماز کے سلسلے میں اختلاف ہوگیا ، بعض نے کہاں کہ مقیم ہیں، کیونکہ ۳۰ دن کی تشکیل ہے، بعض نے کہا ایک جگہ نہیں ہے، بلکہ الگ الگ گاؤں ہیں، اس لۓ قصر کی نماز پڑھی جائےگی، کیونکہ امام غیر عالم تھے، ان کی عدم موجودگی میں جماعت والوں نے امامت کرا دی، امام صاحب آئے تو اس نے کہا کہ تم مسافر ہو، مزید علماء سے پتہ کرایا تو انہوں نے بھی قصر کا کہا۔
جماعت نے کراچی میں اپنے امام صاحب سے معلوم کیا بذریعہ فون ،تو انہوں نے قصر کا کہا، پھر ایک مفتی صاحب سے اس علاقے کے امام نے رابطہ کیا تو انہوں نے آنحضرتﷺ کے سفرِ ہجرت کا حوالہ دیا کہ یہ مقیم ہیں، یعنی مکمل نماز کے پندرہ دن سے زیادہ ہیں، یہاں بعض تبلیغی سال لگائے ہیں، علماء سے معلوم کیا تو انہوں نے قصر کا کہا اور تبلیغی بزرگوں کے حوالے سے سفر قرار اور سفر فرار کے حوالے سے بات کی ، لیکن یہ معاملہ کئی جماعتوں کا ہے، لہٰذا اس سلسلے میں جواب عنایت فرمائیں، کیونکہ جتنی جماعتیں ہیں سب کو یہ مسئلہ درپیش ہے۔
مذکور مقام اگر مختلف قصبات پر مشتمل دیہات ہو تو اس میں ہر گاؤں مستقل مقام شمار ہوتا ہے، اس لۓ وہاں تشکیل ہونے کی صورت میں جماعت کے افراد اپنی چار رکعت والی نمازوں میں قصر کریں گے، اور اگر شہر میں تشکیل ہو تو وہ پورا شہر ایک موضع شمار ہوتا ہے، اس لۓ پندرہ دِ ن یا اس سے زائد کی تشکیل ہونے کی صورت میں ان پر پوری نماز پڑھنا لازم ہے۔
فی الفتاوى الهندية: ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر، كذا في الهداية اھ(1/ 139)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4