سعودی عرب میں حج کے موقع پر بینک ایک مقررہ وقت دیتے ہیں اگر رش کی وجہ سے رمی کرنے میں تاخیر ہو جائے اور قربانی پہلے ہو جائے تو کیا حکم ہو گا؟جزاک اللہ
فقہاءِ حنفیہ کے نزدیک حج کے تین احکام رمی، قربانی اور حلق کو بالترتیب ادا کرنا واجب ہے،اس لۓ حنفی حجاج کرام کو اپنی استطاعت کی حد تک اس ترتیب کی رعایت کرنا لازم اور ضروری ہے، اس لۓ حجاجِ کرام حکومت کی طرف سے قربانی کے لۓ مقررکردہ وقت سے قبل رمی کا اہتمام کرنا لازم ہے، تاہم اگر کسی کو رمی کرتے ہوئے تاخیر ہوجانے کی صورت میں یقینی طورپر معلوم ہوجائے کہ انہوں نے قربانی کے بعد رمی کرلی ہے، تو ایسی صورت میں اس کے ذمہ حدودِ حرم میں دم دینا لازم ہوگا۔
فی البحر الرائق: "اعلم أن ما یفعل في أیام النحر أربعۃ أشیاء: الرمي والنحر والحلق والطواف، وہٰذا الترتیب واجب عند أبي حنیفۃ ومالک وأحمد".(24/3، ط: سعید)۔
یجب في یوم النحر أربعة اشیاء: الرمي، ثم الذبح لغیر المفرد، ثم الحلق، ثم الطوف۔ (رد المحتار: ۳/۴۷۲، ط: زکریا)۔