احکام وراثت

والد کےگھر کی تعمیر میں لگائی ہوئی رقم کے مطالبہ کا حکم

فتوی نمبر :
65656
| تاریخ :
معاملات / ترکات / احکام وراثت

والد کےگھر کی تعمیر میں لگائی ہوئی رقم کے مطالبہ کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والد مرحوم ہارون رشید کا تقریباً چو دہ ماہ قبل انتقال ہو ا ، ان کی زندگی میں ایک کچا مکان جو دو کمروں پر مشتمل تھا، جس میں اب ہم بھائی (حبیب اللہ اور نادر خان ) رہائش پذیر ہیں ، نادر خان نے اپنے کمرے کے اوپر ایک نیا کمرہ والد مرحوم کی زندگی میں تعمیر کیا تھا، اور اس کی ضرورت یوں پیش آئی کہ میرے دوسرے بیٹے کی شادی ہو رہی تھی، اس کے لئے جگہ کی کمی تھی، اس کام کے لئے میں نے اس وقت چار تولہ سونا فروخت کر کے اور بیٹے کی دی ہوئی کچھ رقم شامل کر کے یہ کمرہ بنوایا اپنی ضرورت کے لئے، لیکن والد مرحوم چونکہ بات چیت کی پوزیشن میں نہیں تھے، اس لئے ان سے اجازت و غیر ہ لینا ممکن نہیں تھا، البتہ دیگر بھائی موجود تھے ، ان کے علم میں یہ بات تھی، جبکہ اس کے برابر میں دو کمروں پر مشتمل کچے مکان کی دیواروں کو گرا کر ایک بھائی ( امان اللہ جو دبئی میں ہے انہوں) نے یہ مکان والد کی زندگی میں تعمیر کیا تھا، اس وقت والد صاحب بالکل تندرست تھے ، اور اس مکان کے تعمیر کی بھی ضرورت تھی، اس لئے انہوں نے دو کمروں پر مشتمل گراونڈ فلور تعمیر کر دی ،اور بڑے بھائی ( محمد خان) کی نگرانی میں تعمیر ہوئی، جس میں بڑے بھائی محمد خان ابھی تک رہائش پذیر ہے ، البتہ اس وقت اس پر دوسری منزل کچھی چادروں کی چھت ڈلوائی تھی، جس میں ایک کمرے میں امان اللہ خان اور دوسرے کمرے میں عجب خان کی رہائش تھی، لیکن بعد میں گھر یلو اختلافات کی وجہ سے عجب خان وہاں سے نکل کر 2017 سے کرایہ کے مکان میں تاحال رہائش پذیر ہے، اب تقریباً ڈیڑھ سال قبل اس دوسری منزل پر کچی چھت کی وجہ سے رہائش مشکل تھی، جس کی وجہ سے مجبوری کے تحت امان اللہ نے اس منزل پر چھت دوبارہ ڈال دی ، ور ایک خالی ہال بنادیا تھا، جس پر تقریباً ساڑھے سترہ سے اٹھارہ لاکھ روپے خرچ ہوئے ، جو والد صاحب کی زندگی میں خرچ کیے، لیکن ان کی صحت اس طرح نہیں تھی کہ اس سے اجازت لی جائے، البتہ دیگر بھائیوں کے علم میں یہ بات تھی، اب اس صورت حال کے تناظر میں نادر خان اور امان اللہ خان کا مطالبہ ہے کہ تقسیم میراث سے قبل ہم نے تعمیرات پر جو خرچہ کیا تھا وہ ہمیں ملنا چاہئیے ، یہ بھی واضح رہے کہ امان اللہ خان صرف ڈیڑھ سال قبل تعمیری اخراجات کا مطالبہ کر رہا ہے ، گراونڈ فلور کی تعمیر پر جو خرچہ کیا ہے اس کا مطالبہ نہیں کر رہا ہے، واضح رہے کہ جدید تعمیر شدہ بالائی منزل پر عجب خان رہائش اختیار کرنا چاہتا ہے ، لیکن بھائی امان اللہ خان نے انہیں اسکی اجازت نہیں دی ، لہذا اس سلسلہ میں امان اللہ خان اور نادر خان کا تعمیری اخراجات کا مطالبہ شرعاً درست ہے یا نہیں؟ نیز والد مرحوم کے ورثاء میں ہم پانچ بیٹے (محمد خان، نادر خان ، حبیب اللہ ، امان اللہ خان اور عجب خان) اور تین بیٹیاں ( نور جہاں، عقل سراجیہ اور بخت زیب) حیات ہیں، جبکہ والدہ مرحومہ کا انتقال والد مرحوم کی زندگی میں ہو چکا ہے ، ان ورثاء میں شرعی تقسیم کس طرح ہو گی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں میں نادر خان نے اپنے کمرے پر اورامان اللہ خان نے اس منزل پر اگر چہ یہ تعمیر ذاتی مجبوری کے تحت کی تھی، لیکن اس وقت چونکہ والد بقید حیات تھے اور یہ پوری جائیداد والد کی ملکیت تھی، اور یہ تعمیرات اس سے اجازت لئے بغیر کی گئی تھی، اس لئے اب مسمی نادر خان اور مسمٰی امان اللہ خان تقسیم ترکہ سے قبل تعمیرات پر کئے گئے اخراجات کے حقدار تو نہیں، البتہ چونکہ تعمیرات کا ملبہ ان دونوں کی ذاتی رقم سے خریدا گیا ہے ، اس لئے یہ دونوں ملبہ کے موجودہ قیمت کے اعتبار سے رقم وصول کر سکتے ہیں، اور اگر دیگر در ثاء انہیں اس ملبہ کی قیمت دینے پر آمادہ نہ ہوں تو وہ ان تعمیرات کو گرا کر ملبہ اٹھانے کا بھی حق رکھتے ہیں ، بشر طیکہ اس کے گرانے کی وجہ سے باقی تعمیر متاثر نہ ہو، تاہم اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ تمام ورثاء کی باہمی رضامندی سے صلح مصالحت کے طور پر اس ملبہ کی کوئی مناسب قیمت متعین کر کے ان دونوں کے حوالہ کر دی جائے ،تا کہ باہمی اختلاف اور نزاع سے بچا جاسکے۔
اسکے بعد واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم ( مسمی بارن الرشید) کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اسکے مذکور ورثاء میں اسطرح تقسیم کیا جائے گا کہ مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ذاتی ملکیت میں مذکور مکان سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات ، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یا ساز و سامان چھوڑا ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو تو اس کی ادائیگی کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اسکے کل تیرہ (13) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کو دو (2) حصے اور ہر بیٹی کو ایک (1) حصہ دیا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار:(عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها (ولو) عمر (لنفسه بلا إذنها العمارة له) ويكون غاصبا للعرصة فيؤمر بالتفريغ بطلبها ذلك (ولها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) في البناء فلا رجوع له ولو اختلفا في الإذن وعدمه، ولا بينة فالقول لمنكره بيمينه، و في أن العمارة لها أو له فالقول له لأنه هو المتملك كما أفاده شيخنا اھ (6/ 747)۔
و في رد المختار: وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لأمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له، وله رفعه إلا أن يضر بالبناء، فيمنع ولو بنى لرب الأرض، بلا أمره ينبغي أن يكون متبرعا كما مر الخ (747/6)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 65656کی تصدیق کریں
0     148
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =ایک بیوہ تین بیٹے دو بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات