السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب ایک بندے کا اپنی مارکیٹ ہے اس نے اپنی مارکیٹ سے ایک دکان فروخت کر دیا اب جس دکان کو بیچا ہے اس سے متصل دوسری دکان بیچ رہا ہے تو آیا اب پہلے والا مشتری اپنے دکان کی وجہ سے شفعہ کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس طرح ایک ٹاون ہے ایک گھر فروخت ہوا ،کچھ دن بعد دوسرا فروخت کر رہا ہے تو پہلے والا مشتری اپنے متصل گھر پر شفعہ کر سکتا ہے یا نہیں؟
اگر کسی شخص نے اپنی مارکیٹ میں سے کوئی دکان، یا کسی ٹاؤن میں سے کوئی مکان، کسی دوسرے شخص کو فروخت کر دیا تو وہ دوسرا شخص اس دکان اور مکان کا مالک بن جاتا ہے ، پھر اگر اس مکان اور دکان کے متصل کوئی زمین فروخت ہو جاتی ہے تو اسباب شفعہ میں سے کسی سبب کے پائے جانے کی صورت میں مذکور دوسرے شخص کو شرعاً شفعہ کا حق حاصل ہوگا۔
كما في الدر المختار: (وسببها اتصال ملك الشفيع بالمشترى) بشركة أو جوار. (6/ 217)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله بشركة أو جوار) متعلق باتصال وشمل الشركة في البقعة والشركة في الحقوق كما يأتي، وشمل قليل الشركة وكثيرها كالجوار نبه عليه الأتقاني ط اھ (6/ 217)