السلام علیکم!
میں نے اپنے والد صاحب کی زندگی میں انکا گھر خریدنے کے لئے اپنی کمپنی سے قرض لیا تھا جو کہ میں اپنی تنخواہ سے ہر مہینے کچھ نہ کچھ رقم ادا کرتا آرہا ہوں، بعد ازاں والد صاحب اور دیگر گھر والوں (یعنی میرے بھائی، بہن اور والدہ) کی رضا مندی سے یہ طے پایا کہ گھر کو بیچ کر قرض کی رقم ادا کردیں گے، گھر فروخت ہوگیا اور والد صاحب نے ایک چھوٹا فلیٹ خرید لیا , لیکن کمپنی کے قرض کی ادائیگی نہ ہوسکی،کمپنی سے قرض لیتے وقت میری یہ نیت نہیں تھی کہ میں والد صاحب سے یہ رقم واپس لونگا ،لیکن کئی دفعہ میرے والد صاحب اور والدہ نے کہا کے قرض کی ادائیگی کردیں گے، والد صاحب قضائے الہی سے وفات پا چکے ہیں، اور میں اپنے والد صاحب کی دی ہوئی ذمہ داری سے سبکدوش ہونا چاہتا ہوں کہ فلیٹ بیچ کر شرعی تقاضوں کے ساتھ وراثت تقسیم کردی جائے،مجھ سمیت ہم تین بھائی، دو بہنیں اور والدہ ہیں،والد صاحب کے ذمے کچھ قرض بھی باقی ہے جو انہوں نے اپنے ذاتی کام کے سلسلے میں لیا تھا ، بہن کو بھی والد صاحب نے کچھ رقم بطور قرض دی تھی ،کیا وہ رقم بھی وراثت کے مال میں جمع ہوگی یا پھر بہن کی وراثت کے مال میں سے منہا کردیا جائیگا؟ جائیداد کی تقسیم کس طرح سے ہوگی رہنمائی فرمادیں!جزاک اللہ۔
نوٹ: گھر کی پراپرٹی والد صاحب کے نام پر تھی۔
سائل نے جب والد مرحوم کو رقم دیتے وقت قرض کی یا واپس لینے کی صراحت نہیں کی تھی تو یہ سائل کی طرف سے والد مرحوم کے ساتھ تبرع و احسان شمار ہوگا، لہذا سائل مذکور رقم کا مطالبہ نہیں کر سکتا اور نہ ہی ترکہ سے یہ رقم منہا کر سکتا ہے، البتہ اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں اور سب بخوشی سائل کا قرض ترکہ سے ادا کرنا چاہیں تو انہیں اس کا اختیار حاصل ہے۔
جبکہ سائل کے والد مرحوم نے جو رقم سائل کی بہن کو بطورِ قرض دی ہو تو ترکہ کی تقسیم میں مذکور رقم بھی شامل کرکے ورثاء کے درمیان یہ رقم حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اُنکے موجودہ ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور فلیٹ سمیت جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو یا بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہو تو اس کی ادائیگی کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگرمرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چونسٹھ(64) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو آٹھ(8) حصے، ہر ایک بیٹے کو چودہ (14) حصے، جبکہ ہر ایک بیٹی کوسات(7) حصے دیے جائیں - و اللہ خیر الوارثین
کما فی الدر المختار : (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها۔اھ (5/ 690)-
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0