السلام علیکم ، میں گلگت بلتستان سے یہ سوال پوچھ رہا ہوں،میرا سوال نماز قصر اور وطن اصلی کے بارے میں ہے، میری فیملی میں 17 لوگ ہیں ،ان میں سے میری امی ، ابو ، ایک بھائی اور ایک بہن میرے گاؤں میں رہتے ہیں، باقی 6 بھائی، 5 بہنیں اور دادی گلگت شہر میں رہتے ہیں، جبکہ میں چلاس شہر میں نوکری کرتا ہوں اور و ہیں پہ ہی رہائش پذیر ہوں، اب سوال یہ ہے کہ گلگت شہر میں جہاں میرے بہن بھائی رہتے ہیں، ا گر میں ان کے پاس جا تا ہوں ، 15 دن سے کم رہنے کی نیت سے ، تو کیا میں نماز قصر پڑھ سکتا ہوں کہ نہیں؟ اور یہ بھی بتا د یں کہ جن 3جگہوں کو میں نے ذ کر کیا ہے ان میں سے میرا وطن اصلی کون سا ہے ۔
صورت مسئولہ میں ا گر سائل چلاس شہر میں اپنے اہل و عیال کے ہمراہ رہائش پذیر ہو ،اور سائل نے آبائی گاؤں کو مستقل طور پر چھوڑ کر چلاس شہر میں مستقل رہنے کا پختہ عزم و ارادہ نہ کیا ہو ،تو ا یسی صورت میں چلاس شہر سائل کا وطن اصلی شمار نہ ہو گا ،بلکہ وطن ا قامت شمار ہو گا اس لئے ان دونوں جگہوں میں سائل کو پوری نماز پڑھنی لازم ہو گی ،جبکہ گلگت شہر میں ا گر فقط سائل کے بہن بھائی رہائش پذیر ہوں وہ سائل کا آبائی شہر نہ ہو تو یہ شہر سائل کا وطن اصلی شمار نہ ہوگا ،بلکہ سائل ا گر پندرہ دن سے کم کی نیت کر کے اس شہر میں ٹھہر تا ہے تو ا یسی صورت میں سائل کے ذمہ ا پنی ا نفرادی نماز وں میں قصر کرنا لازم ہو گا ۔
فی فتاوی الھندیۃ : ووطن سفر و قد سمی وطن اقامۃ وھوالبلد الذی ینوی المسافر الاقامۃ فیہ خمسۃ عشر یوماً او اکثر الخ (1/142)۔
و فی البحر الرائق : والوطن الأصلي هو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى ا تخذها دارا و توطن بها مع أهله و ولده، و ليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها اھ (2/136)۔
و فیہ ایضاً :ثم قال و هذا جواب واقعة ابتلينا بهاوكثير من المسلمين المتوطنين في البلاد، و لهم دور و عقار في القرى البعيدة منها يصيفون بها بأهلهم و متاعهم فلا بد من حفظها أنهما وطنان له لا يبطل أحدهما بالآخر اھ (2/136)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4