ترجمہ: السلام علیکم! میں اٹک شہر میں رہتا ہوں اور میرا دفتر تین سو(300) کلو میٹر دور سیالکوٹ میں واقع ہے اور میں ہفتہ وار یا چودہ دن بعد سفر کرتا ہوں،اس صورتِ حال میں کیا میں قصر نماز ادا کروں گا یا عام (مکمل) نماز ؟ شکریہ۔
سائل نے اگر اب تک جائے ملازمت (سیالکوٹ) میں پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت نہ کی ہو تو وہ اپنی جائے ملازمت میں شرعاً مسافر شمار ہوگا،لہذا سیالکوٹ میں اور دورانِ سفر اپنی انفرادی چار رکعت والی نمازوں میں سائل کے ذمہ قصر کرنا لازم ہوگا ،البتہ ایک دفعہ بھی اگر سیالکوٹ شہر میں پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت کر لی تو اب وہ اس کا وطنِ اقامت کہلائے گا،پھر جب تک وہاں سائل کی اقامت اور رہائش کا ضروری سامان باقی رہے تب تک سائل مقیم شمار ہوگا اور تمام نمازیں مکمل اور پوری پڑھنی لازم ہونگی۔
کما فی الفتاوی الھندیة: ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر،كذا في الهداية (الیٰ قولہ) ولا بد للمسافر من قصد مسافة مقدرة بثلاثة أيام حتى يترخص برخصة المسافرين وإلا لا يترخص أبدا اھ (1/138)۔
و فی بدائع الصنائع : و أما بيان ما يصير المسافر به مقيما : فالمسافر يصير مقيما بوجود الإقامة ، و الإقامة تثبت بأربعة أشياء : أحدها : صريح نية الإقامة و هو أن ينوي الإقامة خمسة عشر يوما في مكان واحد صالح للإقامة فلا بد من أربعة أشياء : نية الإقامة و نية مدة الإقامة ، و اتحاد المكان ، و صلاحيته للإقامة اھ (1/97)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4