احکام حج

حرام مال سے کسی کو حج و عمرہ کرانے کا حکم

فتوی نمبر :
68941
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

حرام مال سے کسی کو حج و عمرہ کرانے کا حکم

السلام علیکم ! ایک شخص جس کے بارے میں ہر ایک کو معلوم ہے کہ اس کے پاس جو دولت ہے وہ دو نمبر کے کاموں سے کمائی ہوئی ہے جیسے ( رشوت وغیرہ ) اگر وہ شخص اپنی اس کمائی سے دیگر لوگوں کو حج ، عمرہ اور عراق ، ایران ، شام زیارتوں پر بھیجتا ہے تو ایسے عمرہ ، حج اور زیارتوں کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور شخص کا لوگوں سے ناحق طریقہ ( رشوت وغیرہ ) سے ان کے اموال لینا شرعاً ناجائز اور حرام فعل ہے جس کی وجہ سے وہ سخت گنہگار ہورہا ہے ، لہٰذا اسے اپنے اس طرزِ عمل سے اجتناب کے ساتھ ساتھ اس رقم کو لوگوں کے حج اور عمرے وغیرہ کی ادائیگی کے لئے بھیجنے میں خرچ کرنے کے بجائے اصل مالکان کے معلوم ہونے کی صورت میں ان تک لوٹانا لازم ہے ، تاکہ کل قیامت کے دن اللہ تعالی کے سامنے سرخرو ہوسکے ، البتہ اگر اصل مالکان معلوم نہ ہو یا ان تک کسی بھی طرح یہ رقم واپس لوٹانا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں یہ رقم براہِ راست حج و عمرہ کی ادائیگی کے لئے استعمال کرنے کے بجائے متعلقہ لوگوں کی طرف سے ضرورت مندوں کو صدقہ کرکے دیدیں ، جس کے بعد وہ اپنی مرضی سے اس رقم کو کسی بھی کام میں خرچ کرنے میں آزاد ہوں گے ، جبکہ کسی شخص کو اس بات کا علم ہونے کے باوجود کہ اخراجات کے لئے دی جانے والی رقم حرام کمائی سے حاصل کردہ ہے ، اس رقم سے وہ حج کی ادائیگی کرلے تو اگر چہ اس سے یہ فریضہ اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائے گا ، تاہم اس عبادت کی روحانیت اور اجر و ثواب بہرحال اسے حاصل نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی ردالمحتار : و يردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ ( ج۶ ، ص۳۸۵، کتاب الحظر والإباحۃ ، باب الإستبراء وغیرہ ، ط۔ایم سعید )۔
و فیہ ایضاً : و الحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، الخ ( ج۵ ، ص۹۹ ، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد ، ط۔ایم سعید )۔
و فیہ ایضاً : (قوله كالحج بمال حرام) كذا في البحر والأولى التمثيل بالحج رياء وسمعة، فقد يقال إن الحج نفسه الذي هو زيارة مكان مخصوص إلخ ليس حراما بل الحرام هو إنفاق المال الحرام، ولا تلازم بينهما، كما أن الصلاة في الأرض المغصوبة تقع فرضا، وإنما الحرام شغل المكان المغصوب لا من حيث كون الفعل صلاة لأن الفرض لا يمكن اتصافه بالحرمة، وهنا كذلك فإن الحج في نفسه مأمور به، وإنما يحرم من حيث الإنفاق، وكأنه أطلق عليه الحرمة لأن للمال دخلا فيه، فإن الحج عبادة مركبة من عمل البدن والمال كما قدمناه، ولذا قال في البحر ويجتهد في تحصيل نفقة حلال، فإنه لا يقبل بالنفقة الحرام كما ورد في الحديث، مع أنه يسقط الفرض عنه معها ولا تنافي بين سقوطه، وعدم قبوله فلا يثاب لعدم القبول، ولا يعاقب عقاب تارك الحج. اهـ.، أي لأن عدم الترك يبتنى على الصحة: وهي الإتيان بالشرائط، والأركان والقبول المترتب عليه الثواب يبتنى على أشياء كحل المال والإخلاص كما لو صلى مرائيا أو صام واغتاب فإن الفعل صحيح لكنه بلا ثواب والله تعالى أعلم اھ۔ (ج۲ ، ص۴۵۶ ، کتاب الحج ، ط۔ایم سعید )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد صدیق سردار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 68941کی تصدیق کریں
0     1538
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات