احکام حج

بغیر محرم کےحج پر جانا

فتوی نمبر :
69005
| تاریخ :
2023-11-05
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

بغیر محرم کےحج پر جانا

السلام علیکم! میری عمر بیالیس سال ہے، میں سرکاری ملازمت کرتی ہوں, میں جلد سے جلد حج کرناچاہتی ہوں، بھائی غریب ہیں، شوہر کہتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ پے حج کریں گے، میری امی اور خالہ کی باون (52) سال کی عمر میں وفات ہوئی، اُنکا حج محرم نہ ہونے کی وجہ سے رہ گیا، کیا میں کسی شریف فیملی کے ساتھ حج پے جا سکتی ہوں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ پر اگر حج فرض ہو، یعنی اُسکی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنا مال وغیرہ ہو کہ وہ اپنے حج کا خرچہ برداشت کر سکتی ہو تو اُس کو چاہیئے کہ جلد از جلد اس فریضہ کی ادائیگی کا اہتمام کرے، شوہر کی ریٹائرمنٹ میں اگر چند سال باقی ہوں اور شوہرساتھ جانے کیلئے آمادہ نہ ہو تو کسی قریبی محرم رشتہ دار کے ساتھ اپنی ترتیب بنائے،تاہم اگر کوئی بھی محرم ساتھ جانے کیلئے تیار نہ ہو تو سائلہ کیلئے شوہر یا محرم کے بغیر کسی فیملی کے ساتھ سفرِ حج پر جانا شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے،بلکہ اُس کو چاہیئے کہ حجِ بدل کی وصیت کردے، تاکہ انتقال کی صورت میں اُس کی طرف سے حجِ بدل کیا جا سکے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع: لا تسافر امرأة ثلاثة أيام إلا ومعها محرم أو زوج ولأنها إذا لم يكن معها زوج، ولا محرم لا يؤمن عليها إذ النساء لحم على وضم إلا ما ذب عنه، ولهذا لا يجوز لها الخروج وحدها۔اھ (2/123)
وفی الفتاوىٰ الهندية: ثم تكلموا أن أمن الطريق وسلامة البدن على قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى ووجود المحرم للمرأة شرط لوجوب الحج أم لأدائه، بعضهم جعلوها شرطا للوجوب وبعضهم شرطا للأداء، وهو الصحيح وثمرة الخلاف فيما إذا مات قبل الحج فعلى قول الأولين لا تلزمه الوصية وعلى قول الآخرين تلزمه كذا في النهاية۔اھ (1/219)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسامہ ارشد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69005کی تصدیق کریں
0     649
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات