السلام علیکم ! میرے والد صاحب وفات پاچکے ہیں ، میں نے کچھ عرصہ پہلےایک کاروبار شروع کیاہے اور نیت کی ہے کہ جو منافع ہوگا اس کا دس فیصد اللہ کی راہ میں دونگا ، جو اللہ کی راہ میں دےرہاہوں وہ میرے اور والد صاحب کی طرف سے ہو ، مطلب آدھا میری طرف سے اور آدھا والد صاحب کی طرف سے ، تو کیاایسا کرنا یا نیت کرناجائز ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کاعمل و نیت ہر دو امور شرعاً جائز اور درست ہیں اور ایسا کرنے سے اس کا پورا اجر و ثواب سائل اور اسکے والد مرحوم کو برابر ملے گا۔
کما فی فتح الباری : و فی حدیث الباب من الفوائد جواز الصدقۃ من المیت و ان ذلک ینفعہ بوصول ثواب الصدقۃ الیہ و لاسیما ان کان من الولد و ھو مخصص لعموم قولہ تعالی ( و ان لیس للانسٰن الّا ماسعی ) الخ(ج 8 ص561 کتاب الوصایا باب ما یستحب لمن توفی فجاءۃ ط: مکتبہ ماجدیۃ)۔
و فی رد المحتار تحت (قولہ : و یقرا یٰس)(الی قولہ)صرح علماءنا فی باب الحج عن الغیر بان للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلاۃ او صوما او صدقۃ او غیرھا ( الی قولہ ) و یصح اھداء نصف الثواب او ربعہ کما نص علیہ احمد و لامانع منہ ،و یوضحہ انہ لو اھدی الکل الی اربعۃ یحصل لکل منھم ربعہ ، فکذا لو اھدی الربع لواحد و ابقی الباقی لنفسہ الخ (ج 2 ص243 کتاب الصلاۃ باب صلاۃ الجنازۃ ط ایچ ایم سعید )