میں ارادہ رکھتا ہوں کہ میں اپنی والدہ کو حج پر لے جاؤں پاکستان سے انشاءاللہ ، چونکہ میں سعودیہ میں رہائش پرمٹ پر رہتا ہوں ، تو میں ارادہ رکھتا ہوں کہ اپنی والدہ کے ساتھ ہو جاؤں سعودیہ میں حج پرمٹ پر، جوکہ سعودیہ سے جاری ہوگی ، اس طریقے سے میری والدہ عورتوں کے ساتھ سعودیہ سفر کریں گی ، جن میں میری بہن اور بیوی بھی ہوں گی ، اور سعودیہ میں سات سے تیرہ ذی الحجہ میں ان کے ساتھ سارے مناسک حج ادا کروں گا ، میں پاکستان سے حج پرمٹ اپلائی نہیں کر سکتا ، کیونکہ اس میں پاسپورٹ سپرد کرنا ضروری ہے جو کہ میرے لئے ناممکن ہے ، کیونکہ میں سعودیہ میں کام کررہا ہوں ، یہ پوری صورت حال ہے ، تو میں درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری رہنمائی کریں ، کیا میرا اس طرح ارادہ کرنا ٹھیک ہے ۔
واضح ہو کہ کسی بھی عورت کے لئے بغیر محرم کے حج یا عمرہ کا سفر کرنا بالخصوص جب اس پر حج فرض بھی نہ ہو ، جائز نہیں ، لہذا سائل کا اپنی والدہ ، بہن اور بیوی کے لئے بغیر محرم سفر حج کا انتظام کرنا درست نہیں ، بلکہ اسے محرم کے ساتھ ان کے سفر کا اہتمام کرنا چاہیئے ، تاکہ بغیر محرم کے سفر کرنے کےگناہ سے بچا جا سکے ۔
کما فی الدر المختار : ( و ) مع ( زوج ) و لو عبداً أو ذمیاً أو برضاع ( بالغ ) قید لھما کذا فی النھر بحثا ( عاقل و المراھق کبالغ ) جوھرۃ ( غیر مجوسی و لا فاسق ) لعدم حفظھما ( مع ) وجوب النفقۃ لمحرمھا الخ ( کتاب الحج ، ج 2، ص 464 ، ط : سعید ) ۔
وفی رد المحتار تحت : ( قولہ و ام الولد الخ ) ( الی قولہ ) و فیہ اشارۃ الی ان الحرۃ لا تسافر ثلاثۃ ایام بلا محرم الخ ( کتاب الحظر و الاباحۃ ، ج 6 ، ص 39 ، ط : سعید )واللہ اعلم ۔