احکام حج

سعودیہ میں مقیم بیٹے کا محرم کے بغیر ماں کو حج پر بلانا

فتوی نمبر :
69628
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

سعودیہ میں مقیم بیٹے کا محرم کے بغیر ماں کو حج پر بلانا

میں ارادہ رکھتا ہوں کہ میں اپنی والدہ کو حج پر لے جاؤں پاکستان سے انشاءاللہ ، چونکہ میں سعودیہ میں رہائش پرمٹ پر رہتا ہوں ، تو میں ارادہ رکھتا ہوں کہ اپنی والدہ کے ساتھ ہو جاؤں سعودیہ میں حج پرمٹ پر، جوکہ سعودیہ سے جاری ہوگی ، اس طریقے سے میری والدہ عورتوں کے ساتھ سعودیہ سفر کریں گی ، جن میں میری بہن اور بیوی بھی ہوں گی ، اور سعودیہ میں سات سے تیرہ ذی الحجہ میں ان کے ساتھ سارے مناسک حج ادا کروں گا ، میں پاکستان سے حج پرمٹ اپلائی نہیں کر سکتا ، کیونکہ اس میں پاسپورٹ سپرد کرنا ضروری ہے جو کہ میرے لئے ناممکن ہے ، کیونکہ میں سعودیہ میں کام کررہا ہوں ، یہ پوری صورت حال ہے ، تو میں درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری رہنمائی کریں ، کیا میرا اس طرح ارادہ کرنا ٹھیک ہے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی بھی عورت کے لئے بغیر محرم کے حج یا عمرہ کا سفر کرنا بالخصوص جب اس پر حج فرض بھی نہ ہو ، جائز نہیں ، لہذا سائل کا اپنی والدہ ، بہن اور بیوی کے لئے بغیر محرم سفر حج کا انتظام کرنا درست نہیں ، بلکہ اسے محرم کے ساتھ ان کے سفر کا اہتمام کرنا چاہیئے ، تاکہ بغیر محرم کے سفر کرنے کےگناہ سے بچا جا سکے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : ( و ) مع ( زوج ) و لو عبداً أو ذمیاً أو برضاع ( بالغ ) قید لھما کذا فی النھر بحثا ( عاقل و المراھق کبالغ ) جوھرۃ ( غیر مجوسی و لا فاسق ) لعدم حفظھما ( مع ) وجوب النفقۃ لمحرمھا الخ ( کتاب الحج ، ج 2، ص 464 ، ط : سعید ) ۔
وفی رد المحتار تحت : ( قولہ و ام الولد الخ ) ( الی قولہ ) و فیہ اشارۃ الی ان الحرۃ لا تسافر ثلاثۃ ایام بلا محرم الخ ( کتاب الحظر و الاباحۃ ، ج 6 ، ص 39 ، ط : سعید )واللہ اعلم ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد خباب ارباب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69628کی تصدیق کریں
0     961
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات