میں لکی مروت کا رہائشی تھا اور 2015 میں خاندان سمیت اسلام آباد شفٹ ہو گیا , 2020 میں میری نوکری میانوالی میں ہو گئی، اب کچھ اس طرح ہے کہ لکی مروت میں میرا آبائی گھر ہے ، اسلام آباد میں مجھے سرکاری گھر ملا ہوا ہے جس میں ابھی میری فیملی ہے، اور میں ہفتہ میں 5 دن میانوالی ہوتا ہوں جبکہ 2 دن ( ہفتہ اور اتوار ) چھٹی ہوتی ہے جس میں اسلام آباد جاتا ہوں ۔ میانوالی صرف ہفتہ (5 دن ) کی نیت سے آتا ہوں، کبھی 2 ہفتے بھی ہو جاتے ہیں لیکن اس میں بھی نیت 1 ہفتہ کی ہوتی ہے ۔ کورونا کے دنوں میں 15 دنوں سے زیادہ وقت گزارا تھا لیکن اس میں بھی نیت زیادہ وقت کی نہیں تھی بلکہ نیت یہ ہوتی تھی کہ جوں ہی موقع مل جائے تو اسلام آباد نکل جانا ہے ۔
مختصراً یہ کہ ہر پیر کو اسلام آباد جاتا ہوں اور جمعہ کو میانوالی واپس آتا ہوں , پانچ دن سے زیادہ قیام نہیں کیا اور نہ ارادہ ہے (سوائے کورونا کے دنوں میں، اس میں بھی ارادتاً نہیں ٹھہرا تھا، میانوالی میں سرکاری ہاسٹل میں ہوتا ہوں، ہفتے کے پانچ دن اس ہاسٹل میں قیام کرتا ہوں , یہی ترتیب چار سال سے جاری ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ میں میانوالی میں نماز قصر ادا کروں گا یا پوری ادا کروں گا ؟
دوسرا یہ کہ میں سال میں ایک یا دو مرتبہ اپنے آبائی علاقے لکی مروت بھی جاتا ہوں، لیکن رہتا میں سسرال میں ہوں کیونکہ اپنا آبائی گھر ویران ہے، تو دوسرا سوال میرا یہ ہے کہ اس حالت میں آبائی علاقے میں، میں نمازِ قصر ادا کروں یا پوری نماز ۔ جزاک اللہ
سائل نے اپنے اہل و عیال سمیت "اسلام آباد" منتقل ہو کر ، وہاں رہائش و سکونت اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اگر لکی مروت میں گھر و جائیداد کی موجودگی کی وجہ سے وہاں سے بالکلیہ ترکِ تعلق نہ کیا ہوبلکہ اس کے وطنِ اصلی ہونے کو برقرار رکھا ہو ، تو ایسی صورت میں لکی مروت سائل کا حسبِ سابق وطن اصلی شمار ہوگا اور لکی مروت جاتے وقت سائل پر وہاں پوری نماز ادا کرنا لازم ہوگا جبکہ ملازمت کے سلسلہ میں میانوالی جانےکے بعد سے اب تک کی سائل کے بقول انہوں نے پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت نہیں کی اگرچہ کسی مجبوری کی بنا پر وہاں پندرہ یا اس سے زیادہ دن ٹھہرنے کی نوبت آگئی ہو ، تو سائل پر جائے ملازمت میانوالی میں انفرادی نماز پڑھتے وقت قصر کرنا ہی لازم ہوگا , تا ہم مقیم امام کی اقتداء میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے وقت مکمل نماز ادا کرنا لازم ہے۔
قال اللہ تعالی: وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ ﳓ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ-اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًاالآیۃ(آیتـ101 سورۃ النساء)
و فی تنویر الأبصار: من خرج من عمارۃ موضع إقامۃ مسیرۃ ثلاثۃ أیام و لیالیھا بالسیر الوسط مع اللستراحات المعتادۃ صلی الفرض الرباعی رکعتین حتی یدخل موضع مقامہ أو ینوی إقامۃ نصف شھر اھ ( کتاب الصلاۃ باب صلاۃ المسافر ج 2 صـ 125-121 ط: سعید )
و فی بدیئع الصنائع: و أما عدد رکعات ھذہ الصلوات فالمصلی لا یخلو ما أن یکون مقیماً و أما أن یکون مسافراً ، فإن کان مقیماً فعدد رکعتھا سبعۃ عشر، رکعتان و أربع و أربع ثلاث و أربع،عرفنا بفعل النبی ﷺ و قولہ صلوا کما رأیتمونی أصلی الخ (کتاب الصلاۃ فصل فی عدد الصلوات ج 1 صـ 91 ط:سعید)
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4