احکام حج

محرم نہ ہونے کی وجہ سے حج کی رقم غرباء میں تقسیم کرنا

فتوی نمبر :
70044
| تاریخ :
2023-12-30
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

محرم نہ ہونے کی وجہ سے حج کی رقم غرباء میں تقسیم کرنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، میری والدہ حج کرنا چاہتی ہیں کہ حج ہم پر فرض ہے اور والدہ کے حج کے لیے رقم موجود ہے، مگر ساتھ جانے والے محرم کی (میری) رقم کا ابھی فی الحال انتظام نہیں ہے مختلف ذامہ داریوں کی وجہ سے، اگر ہم اس حج کی رقم سے کسی بیوہ یتیم کی مدد کر دیں یا کسی یتیم بچی کی شادی کر دیں تو کیا یہ عمل درست ہے؟ جبکہ والدہ بضد ہے کہ نہیں حج فرض ہے، یہ عمل نہیں ۔ میں بہت پریشان ہوں کہ والدہ کی خواہش نہیں پوری کر پا رہا۔ اس میں آپ کی رائے درکار ہے۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر سائل اور اس کی والدہ دونوں پر حج فرض ہو، یعنی دونوں کی ملکیت میں (ایامِ حج یا جن دنوں حج کے لئے درخواستیں جمع کرائی جاتی ہوں،ان دنوں میں ) حاجاتِ اصلیہ سے زائد اتنا مال و دولت(سونا، چاندی، مال تجارت اور نقدی وغیرہ) موجود ہو کہ سفرِ حج کے اخراجات کے لئے وہ کافی ہو تو دونوں پر حج فرض ہے، لہذا جتنا جلدی ممکن ہو، حج کے لئے جانا لازم ہے، اس میں بلاوجہ تاخیر کرنا یا ٹال مٹول سے کام لینا یا حج کے پیسے کسی بیوہ یا یتیم کی شادی وغیرہ پر خرچ کرنا شرعاً جائز نہیں، جس سے بہرصورت احتراز لازم ہے۔
البتہ اگر سائل کی والدہ کے پاس فقط اتنی رقم ہو کہ وہ صرف اپنے حج کے اخراجات کے لئے کافی ہو، سائل یا کسی محرم کے حج کے اخراجات کے لئے اس کے پاس رقم موجود نہ ہو اور نہ ہی دوسرا کوئی محرم سائل کی والدہ کے ساتھ اپنے خرچہ پر حج کے لئے تیار ہو تو ایسی صورت میں سائل کی والدہ کے لئے بغیر محرم کے حج پر جانا شرعاً جائز نہیں، بلکہ ایسی صورت میں کسی محرم کا انتظار کرے، تاہم اگر پھر بھی کسی محرم کا بندوبست نہ ہوسکے تو ایسی صورت میں حجِ بدل کی وصیت کردے، لیکن حج کی رقم کسی اور مصرف میں لگانا شرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی حاشية ابن عابدين: وإن لم يكن له مسكن ولا شيء من ذلك وعنده دراهم تبلغ به الحج وتبلغ ثمن مسكن وخادم وطعام وقوت وجب عليه الحج وإن جعلها في غيره أثم اهـ لكن هذا إذا كان وقت خروج أهل بلده كما صرح به في اللباب أما قبله فيشتري به ما شاء لأنه قبل الوجوب كما في مسألة التزوج الآتية وعليه يحمل كلام الشارح فتدبر (2/ 462)
وفی الفتاوى الهندية: إذا وجد ما يحج به وقد قصد التزوج يحج به، ولا يتزوج؛ لأن الحج فريضة أوجبها الله تعالى - على عبده كذا في التبيين. (1/ 217)
وفيها أيضا: ثم تكلموا أن أمن الطريق وسلامة البدن - على قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ووجود المحرم للمرأة شرط لوجوب الحج أم لأدائه، بعضهم جعلوها شرطا للوجوب وبعضهم شرطا للأداء، وهو الصحيح وثمرة الخلاف فيما إذا مات قبل الحج فعلى قول الأولين لا تلزمه الوصية وعلى قول الآخرين تلزمه كذا في النهاية. (1/ 219)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالوہاب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70044کی تصدیق کریں
0     586
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات