قرآن مجید حفظ کرکے اگر بھول جائے تو اس پر کوئی گناہ ملے گا؟
واضح ہو کہ قرآن مجید یاد کرنے کے بعد اس کو اپنی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے بھلا دینا انتہائی خطرناک اور کبیرہ گناہ ہے، احادیثِ مبارکہ میں اس پر سخت ترین وعیدیں وارد ہوئی ہیں، چنانچہ ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص قرآن مجید کو یاد کرنے کے بعد بھلادے تو قیامت کے دن وہ اللہ تعالیٰ سے حالت جذام میں (کوڑھی کے مرض میں مبتلا) ملے گا۔ ایک اور حدیث شریف میں آتا ہے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر میری امت کے گناہ پیش کیے گئے تو میں نے اس سے بڑا اور کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ کسی شخص نے قرآن مجید کی کوئی سورت یا کوئی آیت یاد کرلی اور پھر اس کو بھلادیا، لہذا حافظِ قرآن کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ قرآنِ مجید حفظ کرلینے کے بعد اس کی حفاظت، تلاوت اور اس پر عمل کرنے کا پورا اہتمام کرے، چنانچہ روزانہ کی بنیاد پر تین پارے یا کم از کم ایک پارہ کی تلاوت کو اپنا معمول بنائے، جبکہ احناف کے نزدیک مذکور وعید اس شخص کے بارے میں ہے کہ جو قرآنِ مجید کو اس طرح بھلادے کہ پھر دیکھ کر بھی نہ پڑھ سکے۔
ففی مرقاة المفاتيح: (وعن سعد بن عبادة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - "ما من امرئ يقرأ القرآن ثم ينساه"، أي بالنظر عندنا، وبالغيب عند الشافعي، أو المعنى ثم يترك قراءته نسي أو ما نسي (إلا لقي الله يوم القيامة أجذم) أي: ساقط الأسنان، أو على هيئة المجذوم، أو ليست له يد، أو لا يجد شيئا يتمسك به في عذر النسيان، أو ينكس رأسه بين يدي الله حياء وخجالة من نسيان كلامه الكريم وكتابه العظيم، وقال الطيبي: أي: مقطوع اليد من الجذم وهو القطع: وقيل: مقطوع الأعضاء، يقال: رجل أجذم إذا تساقطت أعضاؤه من الجذام، وقيل: أجذم الحجة، أي: لا حجة له ولا لسان يتكلم به، وقيل: خالي اليد عن الخير (رواه أبو داود، والدارمي) وروى أبو داود والترمذي أنه - صلى الله عليه وسلم - قال: («عرضت علي أجور أمتي حتى القذاة يخرجها الرجل من المسجد، وعرضت علي ذنوب أمتي فلم أر ذنبا أعظم من سورة من القرآن، أو آية أوتيها رجل ثم نسيها»). (4/ 1502)