کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شرعی اصطلاح میں ترکہ کسے کہا جاتا ہے؟ اور ہبہ اور ترکہ میں کیا فرق ہے؟
براہِ کرم وضاحت فرماکر عنداللہ ماجور ہوں وعند الناس مشکور ہوں۔
"ہبہ" اور" ترکہ" میں بہت فرق ہے اور دونوں علیحدہ علیحدہ ایک مستقل حیثیت رکھتے ہیں اس طور پر کہ ہِبہ اُس منقولہ یا غیر منقولی چیز یا رقم کو کہا جاتا ہے جو کسی دوسرے کو کسی عوض کے بغیر دے کر اُس پر اُسے مالک و قابض بنادیا جائے۔
جبکہ ترکہ اس مال و جائیداد کا نام ہے جو مرنے والا اپنی ملکیت میں چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوا ہو اور پھر اس مال و جائیداد کے ساتھ مرحوم کے ورثاء کا حق متعلق ہوجاتا ہے۔
………………………………………………… واﷲ اعلم!
کما فی الشامیۃ: الہبۃ۔ ہی لغۃ التفضل علی الخیر وشرعاً تملیک العین مجّانًا ای بلا عوض۔ (ج۵، ص۶۸۷)-
کما فی الشامیۃ: الترکۃ فی الاصطلاح ما ترکہ المیت من الاموال صافیًا عن تعلق حق الغیر بعین من الاموال۔ (ج۶، ص۷۵۹)-