جہنم

جن لوگوں تک دین کی دعوت نہ پہنچی ہو ان کا مرنے کے بعد کیا ہوگا؟

فتوی نمبر :
88450
| تاریخ :
2025-10-30
عقائد / قیامت و آخرت / جہنم

جن لوگوں تک دین کی دعوت نہ پہنچی ہو ان کا مرنے کے بعد کیا ہوگا؟

میرا سوال یہ ہے کہ ایک شخص تک دین کی دعوت نہیں پہنچی ،جیسے کہ ماضی میں کچھ علاقے دریافت ہوئے، جیسا کہ امریکہ اٹھارویں صد ی میں دریافت ہوا اور جو لوگ اتنے عرصے دنیا سے کٹے رہے، ان تک دعوت وتبلیغ نہیں پہنچی اور وہ لوگ وفات پا گئے، ان کا اللہ کے یہاں کیا معاملہ ہوگا؟ آیا وہ لوگ جنت میں جائیں گے یا جہنم میں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ ایسے لوگ جن تک دین کی دعوت کسی بھی طریقہ سے نہ پہنچی ہو، اگر اللہ کے وجود اور وحدانیت کے قائل تھے توللہ تعالی بروزِ قیامت در گزر فرمائیں گے، اور جنت میں داخل کرانا بھی اللہ تعالی کی شان رحمت وفضل سے بعید نہیں ،تاہم وہ لوگ نماز وغیرہ دیگر فرائض کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ماخوذ نہیں ہوں گے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی تفسیر روح المعانی: روي عن أبي حنيفة رضي الله تعالى عنه أنه قال: ‌لو ‌لم ‌يبعث ‌الله ‌تعالى ‌رسولا لوجب على الخلق معرفته الخ(سورۃ بنی اسرائیل،الایۃ 21، ج8،38،دار الکتب العلمیۃ بیروت)،
و في تفسير الرازي :مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير: وثالثها: كان أبو حنيفة رحمه الله سيفا على الدهرية، وكانوا ينتهزون الفرصة ليقتلوه فبينما هو يوما في مسجده قاعد إذ هجم عليه جماعة بسيوف مسلولة وهموا بقتله فقال لهم: أجيبوني عن مسألة ثم افعلوا ما شئتم فقالوا له هات، فقال: ما تقولون في رجل يقول لكم إني رأيت سفينة تجري مستوية ليس لها ملاح يجريها ولا متعهد يدفعها هل يجوز ذلك في العقل؟ قالوا: لا، هذا شيء لا يقبله العقل؟ فقال أبو حنيفة: يا سبحان الله إذا لم يجز في العقل سفينة تجري في البحر مستوية من غير متعهد ولا مجري فكيف يجوز قيام هذه الدنيا على اختلاف أحوالها وتغير أعمالها وسعة أطرافها وتباين أكنافها من غير صانع وحافظ؟ فبكوا جميعا وقالوا: صدقت وأغمدوا سيوفهم وتابوا. (سورۃ البقرۃ،الایۃ،21،ج 2،ص 333،ط:دار احیاء التراث العربی)۔
وفی البدائع: وأصل المسألة ‌أن ‌الكفار ‌لا ‌يخاطبون بشرائع هي: عبادات عندنا الخ(کتاب الحج،فصل شرائط فریضۃ الحج،ج2،ص120،ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی نور الانوار شرح المنار: والصحيح أنهم لا يخاطبون بأداء ما يحتمل السقوط من العبادات أي المذهب الصحيح لنا: أن الكفار لا يخاطبون بأداء العبادات التي تحتمل السقوط مثل الصلاة والصوم، فإنهما يسقطان عن أهل الإسلام بالحيض والنفاس ونحوهما؛ لقوله عليه السلام لمعاذ حين بعثه إلى اليمن: "لتأتي قوما من أهل الكتاب، فادعهم إلى شهادة أن لا إله إلا الله وأني رسول الله، فإن هم أطاعوك فأعلمهم أن الله فرض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة''الحديث، فإنه تصريح بأنهم لا يكلفون بالعبادات إلا بعد الإيمان، وأما الإيمان فلما لم يحتمل السقوط من أحد لا جرم كانوا مخاطبين به اھ(مبحث الخاص،بیان موجب الامر فی حق الکفار، ج1، ص168، ط:مکتبۃ البشریٰ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سعید اللہ لطیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88450کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کیا سید جہنم میں جاسکتا ہے؟ کیا اولیاء اللہ معصوم ہوتے ہیں؟

    یونیکوڈ   اسکین   جہنم 0
  • شیعہ کے گھر کھانا کھانا اور نوکری کرنا

    یونیکوڈ   جہنم 1
  • جہنمیوں کی زبان کیا ہوگی؟

    یونیکوڈ   جہنم 0
  • پچاس ہزار قرص سے چالیس ہزار نقد ادائیگی پر بقیہ دس معاف

    یونیکوڈ   جہنم 0
  • پان و سگریٹ کا کاروبار

    یونیکوڈ   جہنم 0
  • نوکری کے لیے وظیفہ

    یونیکوڈ   جہنم 0
  • ہنڈی کا کاروبار

    یونیکوڈ   جہنم 0
  • عبد المطلب اور ابو طالب کا اخروی حشر

    یونیکوڈ   جہنم 0
  • ترکہ اور ہبہ میں کیا فرق ہے؟

    یونیکوڈ   جہنم 1
  • کیا مسلکی اور فروعی اختلاف کی بنیاد پر کسی کو جہنمی قرار دیا جا سکتا ہے؟

    یونیکوڈ   جہنم 0
  • شیطان کا آگ سے بنے ہوۓ ہونے کے باوجود ، جہنم کی آ گ میں سزا پانا

    یونیکوڈ   جہنم 1
  • جہنم کی آگ کس رنگ کی ہے؟

    یونیکوڈ   جہنم 0
  • قرآن حفظ کرکے بھول جانے کا کیا گناہ ہے؟

    یونیکوڈ   جہنم 1
  • جن لوگوں تک دین کی دعوت نہ پہنچی ہو ان کا مرنے کے بعد کیا ہوگا؟

    یونیکوڈ   انگلش   جہنم 0
Related Topics متعلقه موضوعات