کیا زمین سے حج فرض ہوتا ہے ؟حوالہ کے ساتھ بیان کریں ۔
واضح ہو کہ حج فرض ہونے کے لئے شرط یہ ہے کہ آدمی کی ملکیت میں حوائج اصلیہ (اپنا اور اہل وعیال کا نفقہ اور رہائش کے اخراجات) سے زائد اس قدر مال ہو کہ جس سے وہ حج پر آنے والے اخراجات پورے کرسکے ، تو ایسے شخص پر حج لازم ہے ، چنانچہ اگر کسی کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اس قدر زمین ہو کہ اس کو بیچ کر حج کے اخراجات اور اہل خانہ کے نان نفقہ کا بندو بست ہو سکے ، تو اس پر اپنی زمین بیچ کر یا کسی سے قرض لیکر حج کرنا شرعاً لازم ہے ، اس میں ٹال مٹول سے کام لینا جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی غنیۃ الناسک:وان کان لہ مسکن فاضل لایسکنہ او عبد لایستخدمہ(الی قولہ)او ارض لا یحتاج الی غلتھا او کرم زائد علی قدر التفکہ بھا او حوانیت او نحو ذلک مما لایحتاج الیھا یجب بیعھا ان کان بہ وفاء بالحج الخ(ص 21 ط:ادارۃ القرآن)۔
وفی الھندیۃ: وإن كان صاحب ضيعة إن كان له من الضياع ما لو باع مقدار ما يكفي الزاد والراحلة ذاهبا وجائيا ونفقة عياله، وأولاده ويبقى له من الضيعة قدر ما يعيش بغلة الباقي يفترض عليه الحج، وإلا فلا الخ(ج 1 ص 218 ط:ماجدیۃ)۔