السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ، محترم ! اگر ایک شخص کاگھر سے نکلتے وقت سفر کا ارادہ نہیں تھا اور وہ اپنے شہر (جو کہ مسافت شرعی سے کم فاصلہ پر ہے) کسی کام سے چلا گیا ،شہر میں اچانک سفر کا ارادہ بنا ، 1۔(منزل مقصود کا سفر) , گاؤں سے مسافت شرعی بنے اور شہر سے مسافت شرعی نہ بنے تو شہر میں یا شہر کی حدود سے باہر نمازِِ قصر ہوگی یا مکمل ؟
2۔ مذکورہ صورت میں اگر شہر میں قصر نماز پڑھ لی تو کیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ جو شخص مسافت شرعی(تقریبا سوا ستترکلومیٹر )کا ارادہ کرکے اپنے شہر یا گاؤں کی حدود سے باہر نکل جائے تو اس پر اپنی انفرادی چار رکعات کی نماز میں قصر کرنا لازم ہے ، جبکہ صورت مسئولہ میں مذکور شخص کا سفر کا ارادہ چونکہ اپنے شہر میں بنا جہاں سے منزل مقصود تک کا فاصلہ مسافت شرعی سے کم تھا ،لہذا شرعاً وہ مسافر شمار نہیں ہوا ، چنانچہ اگر اس نے شہر میں یا باہر قصر نماز پڑھ لی ہو تو اس کی وہ نماز درست ادا نہیں ہوئی ، بلکہ اس سفر کے دوران جتنی نمازیں اس طرح قصر کے ساتھ پڑھی گئی ہو ں اس پر قضاء لازم ہے۔
کما فی الھندیۃ: ولا بد للمسافر من قصد مسافة مقدرة بثلاثة أيام حتى يترخص برخصة المسافرين وإلا لا يترخص أبدا الخ(ج 1 ص 139 ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضا: ولا يصير مسافرا بالنية حتى يخرج ويصير مقيما بمجرد النية الخ (ج 1 ص 139)۔
وفی الدر المختار:ولو لموضع طریقان لاحدھما مدۃ السفر والاخر اقل قصر فی الاول لا فی الثانی الخ (ج 2 ص 133 ط:سعید)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4