کیافرماتےہیں علماءِکرام و مفتیانِ عظام مسئلہ ذیل کےبارےمیں کہ!
ہمارےوالدصاحب کاانتقال ہوچکاہے ،ورثاءمیں زوجہ دوبیٹے:1ـعرفان2ـغلام محی الدین،اورپانچ بیٹیاں:1تبسم2 ـعاشی3 ـحمرہ 4 ـسبیکا 5 ـرابیکاچھوڑیں ہیں ،والد مرحوم کےترکہ میں ایک پلاٹ اورایک کارخانہ بمع مشینری تھا،جسکی سیل کی گئی تواس کی قیمت ایک کروڑ سترلاکھ(17000000)روپےبنی تھی،پھرہم نےاس رقم سےایک اورپلاٹ خرید کراسےبھی فروخت کردیا،اورپھرہم نےایک اورپلاٹ خریدناچاہاتوفروخت شدہ پلاٹ کی رقم کیساتھ والدہ کازیورجسکی قیمت پانچ لاکھ(500000)روپےتھی،بڑی بھابھی کازیورجسکی قیمت دس لاکھ(1000000)روپےتھی،اورچھوٹی بھابھی کازیوراسکی قیمت بھی دس لاکھ(1000000)روپےتھی سیل کردیا،تویہ زیورات کی ٹوٹل قیمت پچیس لاکھ(2500000)روپےبنی جسےہم نےفروخت شدہ پلاٹ کی رقم کےساتھ ملاکرپلاٹ خریدا،اوریہ زیورات ہم نےاس صراحت کےساتھ لئےتھےکہ پھرواپس کرینگے،مذکورہ قیمت اس وقت کی ہےجب ہم نےزیورلیاتھا،اب سوال یہ ہےکہ ان زیورات کےوزن کےبقدرزیورات واپس کئےجائیں گے؟یاپھرقیمت دیجائےگی؟اگرقیمت دیجائےگی توجس وقت فروخت کیاتھااس حساب سےدینالازم ہوگایاموجودہ مارکیٹ ریٹ کاحساب کیاجائیگا؟اوروالد کےترکہ کی مالیت جوکہ ایک کروڑسترلاکھ(17000000)روپےتھی اسےورثاء پرکس طرح سےتقسیم کیاجائیگا؟
نوٹ سوال کی تصحیح سائل سےبذریعہ موبائل فون کی گئئ۔
واضح ہو کہ قرض میں جو چیز لی جائے تو مقروض پر اسی جنس کا لوٹانا شرعاً لازم ہوتا ہے، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی والدہ اور بھابھیوں سے سونا بطور قرض لیا گیا تھا ( جیساکہ سوال میں مذکور ہے ) تواب اس قرض کی ادائیگی بھی سونے کی صورت میں کرنی ہوگی، البتہ اگر نقد رقم کی صورت میں لوٹانا ہو تو آج کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے اس سونے کی جو رقم بنتی ہے، وہ ادا کی جائیگی۔اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے انتقال کے وقت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، نقد رقم اور ہرقسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سارا کا سارا مرحوم کا ترکہ ہے، جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ اداکریں، اس کے بعد دیکھیں کہ مرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل بہتر (72) حصے بنائے جائیں، جن میں سے ہر بیٹے کو چودہ (14) حصے، ہر بیٹی کو سات (7) حصے، اور بیوہ کو نو (9) حصے دیے جائیں -
کما فی ردالمحتار: تحت (قولہ: فلاعبرۃ بغلائہ ورخصہ) (الی قولہ) وان استقرض دانق فلوس او نصف فلوس ثم رخصت او غلت لم یکن علیہ الا مثل عدد الذی اخذہ وکذلک لو قال اقرضنی عشرۃ دراھم غلۃ بدینار فاعطاہ عشرۃ دراھم فعلیہ مثلھا ولاینظر الی غلاء الدراھم ولا الی رخصھا الخ(ج5 صـ162 کتاب البیوع فصل فی القرض ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الھندیۃ: والقرض ھو ان یقرض الدراھم والدنانیر او شیاء مثلیا یأخذ مثلہ فی ثانی الحال، والدین ھو ان یبیع لہ شیأ الی اجل معلوم مدۃ معلومۃ الخ (ج5 صـ366 کتاب الکراھیۃ الباب السابع والعشرون فی القرض والدین ط: ماجدیۃ)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0