کیا کوئی عورت بغیر محرم کے حج کر سکتی ہے ، کیا کوئی عورت جو نئی مسلمان ہو ئی ہے اور اسکا کوئی محرم نہیں ہے لیکن وہ مسلمان نہیں ہے ، تو اس عورت کی حج کرنے کی کوئی صورت ہے ؟
واضح ہو کہ ادائیگی حج ارکان اسلام میں سے ایک رکن اور فریضہ ہے، لیکن عورت کے لئے اس فریضہ کی ادائیگی کے وقت محرم مرد کی معیت ضروری ہے ، اس کے بغیر عورت کے ذمہ اس فریضہ کی ادائیگی لازم ہی نہیں ہو تی ، لہذا مذکور نو مسلم خاتون کے لئے جب تک کسی محرم مرد (جیسے شوہر وغیرہ)کا انتظام نہ ہو اس کے ذمہ اس وقت تک ادائیگی حج لازم نہ ہو گی ، تاہم اگر یہ نو مسلم خاتون صاحب استطاعت ہو اور اس پر حج فرض ہو چکا ہو لیکن محرم نہ ملنے کی وجہ سے وہ اپنی زندگی میں یہ فریضہ ادا نہ کر سکے ، تو ایسی صورت میں اس کے ذمہ اس کی وصیت لازم ہو گی کہ اس کی وفات کے بعد اس کے مال سے حج بدل کرایا جا ئے تاکہ اس کے ذمہ سے فریضہ ساقط ہوسکے ۔
کما فی صحیح البخاری:لایحل لامرأۃ تومن بااللہ والیوم الآخر أن تسافرمسیرۃیوم ولیلۃ لیس معھا حرمۃ(باب فی کم یقصرالصلاۃ حدیث1088ط:مؤسسۃالرسالۃ)۔
وفی ردالمحتار:والمراد سفر خاص وهو الذي تتغير به الأحكام من قصر الصلاة وإباحة الفطر وامتداد مدة المسح إلى ثلاثة أيام وسقوط وجوب الجمعة والعيدين والأضحية وحرمة الخروج على الحرة من غير محرم ط عن العناية(باب الصلاۃالمسافر ج2 ص120 ط:سعید)۔