احکام حج

بغیر محرم حج پر جانا

فتوی نمبر :
71096
| تاریخ :
2024-02-21
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

بغیر محرم حج پر جانا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ میرے پاس کچھ سوال ہے جو عورتوں کے بغیر محرم کے حج کرنے سے متعلق ہےسوال ہے، 1 ) کیا کوئی عورت بغیر محرم کے حج کر سکتی ہے؟2) کیا اگر کوئی عورت جو نئی مسلمان ہوئی ہو اور وہ حج کرنا چاہتی ہے کیا کوئی جائز صورت ہے جس کے بنا پر وہ حج کر سکتی ہے؟،3) کیا اسی ملک کے عالم جو ان کے ساتھ حج کے لیے جاتے ہیں (جو ان کے محرم نہیں ہیں ) کیا وہ کوئی صورت میں ان کےمحرم ہو سکتے ہیں ؟جزاك الله خيرا جَزِيلًا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عورت کے لیے شوہر یا محرم کے بغیر حج کے لئے سفر شرعی( تقریبا 78 کلومیٹر یا اس سے زائد) کا سفر کرنا شرعا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے، لہذا اگر کسی کے پاس اپنے حج کے اخراجات کے لیے پیسے موجود ہوں، لیکن کوئی محرم نہ ہو اور نہ ہی اس کے پاس محرم کے اخراجات کا بندوبست ہو تو ایسی صورت میں کسی نامحرم کے ساتھ حج پر جانا قطعا جائز نہیں بلکہ اس پر لازم ہوگا کہ وہ اپنی طرف سے حج بدل کی وصیت کر جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی غنیۃ الناسک: (الرابع ) المحرم او الزوج لامرأة بالغة ولو عجوزا و معها غيرها من النساء الثقات والرجال الصالحين (الی قولہ) والمحرم من لا يجوز له مناكحتها على التأبيد بقرابة او رضاع او مصاهرة بنكاح او سفاح على الاصح (الی قولہ) ثم اختلفوا ان المحرم او الزوج شرط الوجوب او شرط الاداء كما اختلفوا فى امن الطريق ؟ فقيل الصحيح الاول وقيل الصحيح الثانی وأمرته تظهر في وجوب الوصية بالحج اذا ماتت قبل وجود المحرم او نفقته على القول باشتراطها وفي وجوب نفقة المحرم و راحلته اذا ابی ان يحج معها الابهما وفی وجوب التزوج عليھا ليحج بها ان لم تجد محرما فمن قال بالاول قال لا يجب عليها شيء من ذلك ومن قال بالثانی قال وجب عليها جميع ذلك كذا فی الفتح لكن مشى في اللباب على الثانی مع انه قال لا يجب عليها التزوج لما ذكرنااھ(ص10۔12،ط:ادارۃ القرآن۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد خباب ارباب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71096کی تصدیق کریں
0     689
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات