مؤد بانہ گزارش ہے کہ میرا بھائی جس کے دو بیٹے ہیں جس میں بڑا بیٹا جس کا انتقال ہو گیا ہے، اس کے دو بچے ہیں، جس میں سے ایک بیٹے کی عمر 17 سال اور ایک بیٹی جس کی عمر 8 سال ہے ، یہ کہ اس کی بیوہ نے دوسری شادی کر لی ہے، اور میرے بھائی نے ان بچوں کی پرورش کی اور ابھی اس کی بہو دونوں بچوں کو اپنے ساتھ لے گئی ہے، یہ کہ میرے بھائی کا دونوں بیٹوں پر قرض ہے، اس کی بڑی بہو ( جس نے دوسری شادی کر لی ہے ) اس کا قرض 150000 (ایک لاکھ پچاس ہزار روپے) بنتا ہے، یہ کہ اس کی بہو کہتی ہے کہ میرا بیٹا (یعنی میرے بھائی کا پوتا ) آپ کو قرض ادا نہیں کر سکتا ہے، اور اس کا حق آپ اس کو دے دو ، لہذا آپ جناب سے استدعا ہے کہ اس پر فتوی جاری فرما کر مشکور فرمائیں،اور شریعت کے مطابق دونوں کے حق میں فیصلہ کیا جائے۔
نوٹ : میرے بھائی نے اپنے دونوں بیٹوں کی شادی کیلئے تین لاکھ روپے قرض لیاتھا، اور وہ قرض دونوں بیٹوں پر تقسیم کیا تھا، لیکن بڑا بیٹا قر ض ادا کر نے سے پہلے انتقال کرگیا ، اب والد مذکور بیٹے کے ذمہ جو قرض ہے وہ اپنے پوتے سے مانگ رہاہے۔
سائل کے مرحوم بھتیجے نے اگر اپنے ترکہ میں کچھ چھوڑا ہو اور مرحوم کو ان کے والد کی طرف سے دیے جانے والے قرض کا کوئی ثبوت موجود ہو یا دیگر ورثاء اسکا اعتراف کرتے ہوں تو ایسی صورت میں سائل کے مرحوم بھتیجے کے ترکہ میں سے اسکے والد مرحوم کا ترکہ ادا کیا جائیگا، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے وہ مرحوم کے ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا، لیکن اگر مرحوم نے اپنے ترکہ میں کچھ نہ چھوڑا ہو تو ایسی صورت میں اگر مرحوم کا بیٹا اپنی مرضی و خوشی سے والد مرحوم کا قرض اتارنا چاہے تو یہ بہتر اور افضل ہوگا ، لیکن اگر وہ اپنی مرضی و خوشی سے قرض نہ دینا چاہے ، تو ایسی صورت میں سائل کے بھائی کے لئے اپنے پوتے سے مرحوم بیٹے کے قرض کا مطالبہ کرنے کا شرعاً حق حاصل نہ ہوگا، لہذا سائل کے بھائی کو اپنے اس مطالبے سے اجتناب لازم ہے، جبکہ سائل کے مرحوم بھتیجے نے اگر اپنے ترکہ میں کچھ نہ چھوڑا ہو تو ایسی صورت میں مرحوم کی بیوہ کیلئے اپنے سسر (سائل کے بھائی) سے اسکی زندگی میں اسکی ذاتی جائیداد میں اپنے اور اپنے بچوں کے لئےحصے کا مطالبہ کرنا بھی شرعاً درست نہیں،چنانچہ مرحوم کی بہو کو بھی اپنے اس مطالبے سے اجتناب لازم اور ضروری ہے، تاہم اگر مرحوم نے اپنے ترکہ میں کچھ چھوڑا ہو تو ایسی صورت میں سائل کے بھائی پر , حقوق متقدم علی المیراث کی ادائیگی کے بعد مرحوم بیٹے کے بقیہ ترکہ میں سے اپنی بیوہ بہو اور ان کی اولاد کو ان کا شرعی حصہ دینا لازم اور ضروری ہوگا۔
کما فی الھندیۃ: الترکۃ تتعلق بھا حقوق اربعۃ جھاز المیت ودفنہ والدین والوصیۃ والمیراث الخ (کتاب الفرائض، ج 6، ص 447، ط: ماجیۃ)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0