کیا فرماتے ہیں حضرات مفتیانِ کرام قرآن وسنت کی روشنی میں ان دو مسئلوں کی بابت جو کہ درج ذیل ہیں:
نمبر 1 : زید کھاد اور تیل وغیرہ نقد قیمت میں مثلاً 10000 ہزار روپے میں خریدتا ہے اور ادھار قیمت میں 12000 ہزار روپے میں خریدتا ہے ۔
نمبر 2 : زید کسی بھی آڑھتی سے اپنی فصل پر خرچہ لیتا ہے اور آڑھتی زید کو خرچہ اس شرط پر دیتا ہے کہ بقدرِ خرچہ فصل آپ نے مجھے ہی فروخت کرنی ہے یا ساری ہی فصل مجھے فروخت کرنی ہے اور اس پر میں 6 فیصد کمیشن بھی لوں گا ۔
اب آپ سے سوال یہ ہے کہ آیا یہ دونوں صورتیں قرآن وسنت کی روشنی میں جائز ہیں یا نہیں؟جواب عنایت فرماکر عنداللہ ماجور ہوں ۔جزاک اللہ خیراً !
(1) واضح ہو کہ نقد کے مقابلے میں ادھار زیادہ قیمت پر خرید وفروخت کرنا شرعاً درست ہے، بشرطیکہ بائع ومشتری کسی ایک صورت پر متفق ہوکر معاملہ طے کرلیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں بھی ادھار کی صورت میں زیادہ قیمت پر کھاد وغیرہ خریدنا شرعاً جائز ہے،بشرطیکہ ادھار کی مدت معین کرلی جائے اور اگر اقساط کی صورت میں ادائیگی طے ہوئی ہو ، تو کل اقساط طے کرکے ہر قسط کی رقم بھی متعین کرلی جائے،اور کسی قسط کی تاخیر کی صورت میں کوئی مالی جرمانہ بھی نہ لگایا جائے تو اس طرح معاملہ کرنا شرعاً بھی جائز ہوگا۔
(2) جبکہ آڑھتی کا زید کو فصل کے اخراجات کے لئے اس شرط پر رقم بطورِ قرض دینا کہ فصل کی کٹائی کے بعد بقدرِ قرض اس سے فصل کی خریداری کے ساتھ ساتھ قرض رقم کی چھ فیصد رقم بطورِ کمیشن بھی وصول کر ےگا، سودی معاملہ ہونے کی وجہ سے شرعاً یہ ناجائز اور حرام ہے،اس لئے اس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ: قد تبین مما سبق أنہ لابأس للبائع ان یذکر الاثمان المختلفۃ عند المساومۃ فیقول أبیعہ نقداً بثمانیۃ،ونسیئۃ بعشرۃ (الی قولہ) ولکن اختلاف الاثمان ھذا انما یجوز ذکرھا عند المساومۃ واما عقد البیع فلایصح الا اذا اتفق الفریقان علی أجل معلوم وثمن معلوم،فلابد من الجزم بأحد الشقوق المذکورۃ فی المساومۃ الخ(ج1 ص14احکام البیع بالتقسیط الجزم بأحد الثمنین شرط للجواز ط: دارالعلوم کراتشی)۔
وفی الدرالمختار: وشرعاً (مبادلۃ شیئ مرغوب فیہ بمثلہ علی وجہ مخصوص ویکون بقول أو فعل،اما القول فالایجاب والقبول فالایجاب ما یذکر اولا من کلام المتعاقدین الدال علی التراضی الخ(ج4 ص505/506کتاب البیوع ط: سعید)۔
وفی شرح الأشباہ والنظائر: کل قرض جر نفعاً حرام الخ (ج2 ص352الفن الثانی ط: ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0