السلام علیکم رحمۃ اللہ و برکاتہ! ایک آدمی جس کے 3 بیٹے اور 1 بیٹی اور 1 بیوی ہو۔ سب سے بڑے بیٹے کا ذہنی توازن ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے اس کی شادی نہیں کروائی گئی۔ جس کی عمر تقریباً 50 سال ہو چکی تھی۔ جبکہ دوسرے 2 بیٹوں اور بیٹی کی شادیاں کروا دی گئیں اور ان کے ہاں اولاد بھی موجود ہے۔ پھر 1990 میں اچانک ایک دن بڑا بیٹا جس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا، شہر کی طرف جاتا ہے اور گم ہو جاتا ہے۔ اپنی طاقت و بساط کے مطابق ہر طرح سے اس کی تلاش کی جاتی ہے۔ مگر وہ نہیں مل سکا۔ تقریباً عرصہ 3 سال گزرنے کے بعد 1993 میں وہ آدمی فوت ہو جاتا ہے جبکہ اس کا بیٹا تا حال گم ہی ہے۔ اب اس نے اپنے پسماندگان میں 1 بیوی 2 بیٹے اور 1 بیٹی چھوڑی جبکہ 1 بیٹا مفقود الخبر ہے۔ تقریباً مزید عرصہ 2 سال اور 6 سال کے بعد بیوی 1995 میں اور بیٹی 1999 میں یکے بعد دیگرے فوت ہو جاتی ہیں۔ والدین کی وفات کے بعد 3 بھائی اور 1 بہن کے حساب سے ترکہ کو تقسیم کر دیا گیا۔ بہن کا حصہ ادا کرنے کے بعد ایک بھائی کے مفقود الخبر ہونے کی بنا پر اس کی جائیداد کو دو بھائیوں نے عارضی طور پر آپس میں برابر کا تقسیم کر لیا۔ مگر اس کے بعد بھی تقریباً 24 سال مزید بھی گزر گئے ہیں۔ مگر اس مفقود الخبر بھائی کی زندہ یا مردہ ہونے کی کوئی خبر نہیں ہے۔ کل ملا کے تقریباً 33 سال گمشدگی کی حالت میں گزر چکے ہیں جس میں سے 30 سال والد کی وفات کے بعد کے ہیں۔ اب یہاں سوال یہ ہے کہ اس گمشدہ شخص کی وراثت کیسے تقسیم کی جائے گی؟ کیا اس کی جائیداد میں سے اس کی فوت شدہ بہن کے بچوں کو بھی حصہ ملے گا یا وہ صرف 2 بھائیوں اور ان کی اولاد میں ہی تقسیم ہو گی؟ مزید یہ کہ سائل کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے۔ وہاں پر سرکاری طور پر یہ قانون نافذ ہے کہ اگر کوئی بندہ گم ہو جائے تو پھر اس کی وراثت کو تقسیم کرنے کے لیے یہ دیکھا جاتا ہے کہ کیا وہ جنگل کی جانب جانے کی وجہ سے گم ہوا ہے یا پھر شہر کی طرف۔ اگر جنگل کی جانب گیا اور گم ہو گیا تو اس کی وراثت کو عرصہ 14 سال کے بعد قانونی طور پر ورثا میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور اگر شہر کی جانب گیا اور گم ہو گیا تو پھر 90 سال تک انتظار کیا جائے گا اس کے بعد قانونی طور پر اس کی وراثت تقسیم ہو گی۔ ایسی صورت میں کیا حکم ہے کہ بندے کے گم ہو جانے کے بعد 90 سال کی مدت پوری ہونے تک وہ زمین عارضی اور انتظامی طور پر صرف 2 بھائیوں کے درمیان ہی تقسیم کی ہوئی رہے گی اور اس سے ہر طرح کا فائدہ صرف وہ بھائی ہی لیتے رہیں گے یا اس میں سے فوت شدہ بہن کی اولاد کو بھی برابر حصہ دیا جائے گا؟ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں گمشدہ بھائی کے حصہ میں آنے والا ترکہ دیگر بھائیوں کے پاس امانت ہوگا، جسے ان کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا درست نہیں، جبکہ اپنے اپنے پاس باحفاظت محفوظ رکھنا ضروری ہے، یہاں تک کہ گمشدہ بھائی کی ولادت کے بعد سے اس کی عمر ساٹھ سال کو پہنچ جائے، ساٹھ سال کو پہنچنے کے بعد عدالت سے اس کی موت کا سرٹیفیکیٹ حاصل کیا جائے، عدالتی فیصلہ کے بعد گمشدہ بھائی کا حصہ اس کا ترکہ شمار ہوگا،اور جو اس کے ورثا میں حسب حصص شرعی تقسیم کرنا لازم ہوگا، جبکہ عدالتی فیصلہ سے قبل اس کے حصص کو باہم تقسیم کرنا درست نہ ہوگا۔
ففی الفتاوى الهندية: وإذا فُقد إنسان ولم يُعلم خبره ولم يُدر أحي هو أم ميت، لا يُقَسَّم ماله حتى يبلغ من السن ما يغلب على الظن موته، وقالوا: يُنتظر إلى تمام تسعين سنة من يوم ولادته الخ۔ (ج: 2، ص: 392، ط: دار الفکر)۔
وفی رد المحتار: والغائب الذي لا يُعلم له خبر، لا يُقسم ماله على ورثته إلا بعد الحكم بموته وقال في البحر: ولا يُحكم بموته حتى يبلغ سن من لا يعيش بعده غالبًا، وقدروه بستين سنة فأكثر الخ۔ (ج: 6، ص: 762، ط: دار الفکر)۔
وفی الفتاوى التاتارخانية: في المال المفقود صاحبه: يكون في يد من هو عليه أمانةً، ولا يجوز له التصرف فيه لنفسه ولا لغيره حتى يثبت موت صاحبه بحكم القاضي الخ۔ (ج: 19، ص: 161، ط: إدارة القرآن والعلوم الإسلامية)۔
وفی فتاوى قاضي خان: في الرجل يفقد في بعض الأسفار ولا يُعلم له خبر، لا يُقسم ماله ولا تُزوّج امرأته حتى يحكم القاضي بموته، ويُنتظر به حتى يبلغ سن من لا يعيش غالباً الخ۔( ج: 3، ص: 315، ط: دار الكتب العلمية)۔
وفی البحر الرائق: ولا يُقسم مال المفقود حتى يحكم القاضي بموته، ولا يُحكم بموته إلا إذا بلغ سناً لا يعيش الناس بعده عادةً، وقدره بعضهم بسبعين، وبعضهم بستين سنة، على حسب الغالب في الأعمار الخ۔ (ج: 8، ص: 519، ط: دار الكتاب الإسلامي)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2