وطنِ اصلی اور وطنِ اقامت سے کیا مراد ہے ؟ وطنِ اقامت کیسے باطل ہوتا ہے ؟وطن اقامت سے سفرِ شرعی کے بعد قصر نماز پڑھی جائے گی یا پوری؟
واضح ہو کہ وطنِ اصلی اس جگہ کو کہا جاتا ہے، جہاں انسان اپنی فیملی کے ساتھ مستقل رہائش اختیار کر کے رہ رہا ہو، جبکہ وطنِ اقامت اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں پندرہ دن یا اس سے زائد دن قیام کی نیت کرلے، جبکہ وطنِ اقامت سے اگر مسافتِ شرعی پر نکلے گا تو شہر وغیرہ کی حدود سے نکلنے کے بعد اس پر قصر کرنا لازم ہوگا، جہاں تک وطنِ اقامت کے باطل ہونے کا تعلق ہے تو یہ بات واضح ہو کہ اگر کوئی شخص وطنِ اقامت کو بالکلیہ ترک کردے ، یعنی اپنا ساز و سامان وہاں سے منتقل کرلے اور اپنی رہائش کا بندوبست بھی ختم کر کے دوسری جگہ منتقل ( شفٹ) ہوجائے تو اب وہ جگہ اس کے لئے وطنِ اقامت نہیں رہی، چنانچہ اگر کسی موقع پر مسافتِ شرعی طے کرتے ہوئے اس جگہ پر پہنچ جائے تو اس جگہ وہ مسافر ہی شمار ہوگا اور اپنی انفرادی نماز میں قصر کرنا اس پر لازم ہوگا۔
کما فی الدر المختار: (الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه الخ
وفی رد المحتار تحت (قوله أو توطنه) أي عزم على القرار فيه وعدم الارتحال وإن لم يتأهل الخ ( کتاب الصلوٰۃ ج 2 ص 131 ط: سعید )۔
وفی البحر الرائق: وقيل تبقى وطنا له؛ لأنها كانت وطنا له بالأهل والدار جميعا فبزوال أحدهما لا يرتفع الوطن كوطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر اهـ. ( باب المسافر ج 2 ص 147 )۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4