شادی کے بعد سے میں صاحبِ استطاعت ہو گئی اور مجھ پر حج فرض ہو گیا ہے، اور اب تک میرے شوہر کے پاس استطاعت نہیں ہے،کیا اگر میں اس حالت میں مر گئی تو مجھ پر حج نہ کرنے کا گناہ ہوگا؟ میری وجہ سے شوہر 10 یا11 لاکھ کا قرضہ لیں تاکہ ہم دونوں مل کر حج کر لیں۔ ان کی استطاعت اتنی نہیں۔ قرضہ 10 سال میں اتر سکے گا , ایسی صورت میں میں اپنے پیسوں کا کیا کروں حج کرنا ہی مجھ پر لازم ہے یا کوئی اور صورت اس کے استعمال کی ہوسکتی ہے اگر ان پیسوں سے عمرہ کر لیا تو کیا حج مجھ پر پھر بھی فرض رہے گا؟
سائلہ کو چاہیئے کہ اپنے کسی محرم رشتہ دار کہ جس پر حج فرض ہوچکا ہو، اس کو سفر حج کے لئے آمادہ کرے، لیکن اگر شوہر کی طرح محارم میں سے بھی کسی کے پاس حج پر جانے کے لئے وسائل نہ ہوں تو ایسی صورت میں سائلہ کے لئے بغیر محرم کے سفر حج یا عمرہ کے لئے جانا شرعاً جائز نہیں، بلکہ اس پر لازم ہے کہ حج بدل کی وصیت کردے، تاکہ انتقال کی صورت میں اس کی طرف سے حج بدل کی ادائیگی ہوسکے، جبکہ حج کے لئے جمع شدہ رقم سے عمرہ کرلینے سے حج ساقط نہ ہوگا، بلکہ بدستور ذمہ پر رہے گا۔
کما فی الھندیۃ: الفتاوى الهندية: إذا وجد ما يحج به وقد قصد التزوج يحج به، ولا يتزوج؛ لأن الحج فريضة أوجبها الله تعالى - على عبده كذا في التبيين. (1/ 217)-
وفيها أيضا: ثم تكلموا أن أمن الطريق وسلامة البدن - على قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ووجود المحرم للمرأة شرط لوجوب الحج أم لأدائه، بعضهم جعلوها شرطا للوجوب وبعضهم شرطا للأداء، وهو الصحيح وثمرة الخلاف فيما إذا مات قبل الحج فعلى قول الأولين لا تلزمه الوصية وعلى قول الآخرين تلزمه كذا في النهاية. (1/ 219)