میری دوسری شادی ہے، میں جاب کرتی ہوں، ایک بیٹا ہے، شوہر کے دو بچے ہیں، انکی جاب اچھی ہے، لیکن میرے لئے ایک روپیہ انکے پاس نہیں، اور پینل بھی ہے، لیکن مجھے کہتے ہیں اپنے پیسے سے علاج کروالوں، اپنے بیٹے کو بدتمیزی، زبان درازی سے بھی نہیں روکتے، بس گھر کے سب کام کرو، اور کوئی بات کرنا پسند نہیں، بستر بھی انکا میرے ساتھ نہیں، اپنے بیٹے کے ساتھ ہے، وہ 10 سال کا ہے، لیکن مجھے ماسی سمجھ کے کام لیتے ہیں، کوئی نان و نفقہ نہیں، سوائے کھانا دینے کے، اپنے کپڑے اور دوائی کا خرچہ اور اس کے لئے آنا جانا، اور اپنے بچے کا سب خرچ میں خود پورا کرتی ہوں، پھر بھی کہتے ہیں گھر میں خرچ کرو، اور خود وہ دونوں جاب کرتے ہیں، رہنمائی کریں کہ اس شادی کے بعد سے میں بیمار رہنے لگی ہوں، ذہنی سکون جیسے ختم ہوگیا ہے، کیا کروں طلاق سے بھی ڈر لگتا ہے، بس ذلیل ہوتی رہتی ہوں، کیا مجھے علیحدگی اختیار کرنی چاہئیے ؟ یا ایسی شادی نبھاؤں جو صرف معاشرے کے نام نیتی کے لئے ہو ؟ جسے میں دو سال سے نبھا رہی ہوں، میری طبیعت انہیں ڈرامہ لگتی ہے، وزن دن بدن کم ہو رہا ہے، جواب کی طلبگار ۔
واضح ہوکہ عورت پر شوہر کی سابقہ اولاد کی خدمت کرنا شرعاً لازم اور ضروری نہیں ،لہذا سائلہ کے شوہر کا سائلہ کو انکی خدمت پر پابند کرنا اور اور بیٹے کو گالم گلوچ و بدتمیزی سے منع نہ کرنا انتہائی درجہ نامناسب اور غیرشرعی اور غیر اخلاقی فعل ہے،جس سے اجتناب لازم ہے،البتہ اگر سائلہ اپنے شوہر کی خوشنودی کی خاطر اس کی اولاد کے لئے کھانا بنانا اور کپڑے دھونے کا اہتمام کرتی ہے، تو یہ اسکی طرف سے احسان ہے،جس پر سائلہ کے شوہر اور انکی اولاد کو سائلہ کا احسان مند ہونا چاہئیے -
جبکہ سائلہ کے نان ونفقہ کا انتظام اور مطالبہ پر حقوقِ زوجیت ادا کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے،اور دیانۃً واخلاقاً علاج ومعالجہ کرانا بھی اسی کی ذمہ داری بنتی ہے، جس کے لئے خاندان کے بااثر افراد کو چاہیئے کہ وہ اسے بٹھا کر سمجھائیں اور صلح صفائی کی کوشش کریں،تاہم اگر باوجود کوشش کے اس رشتے کو باقی رکھنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوتو سائلہ کچھ مال(حق مہر وغیرہ) کے ذریعے طلاق یا خلع حاصل کرسکتی ہے،لیکن اگر شوہر اس کے لئے بھی تیار نہ ہو، اور نہ گھر بساکر بیوی کا نان ونفقہ اور دیگر حقوق ادا کرتا ہو،اور نہ ہی طلاق دیتا ہو،تو ایسی صورت میں اس کا شوہر حکماً متعنت شمار ہوگا، لہذا ایسی مجبوری میں سائلہ کو نان ونفقہ نہ دینےاور حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کی بنیاد پر بذریعہ قضاءِ قاضی فسخِ نکاح کا حق حاصل ہوگا۔
جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ سائلہ اپنا مقدمہ مسلمان حاکم(جج) کے سامنے پیش کرےاور جس کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہو وہ اس کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعےپوری تحقیق کرے، اور اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہوجائےتو اس کے خاوند سے کہا جاوے کہ اپنا گھر بسا کر بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو، ورنہ ہم تفریق کردینگے، اس کے باوجو اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل کرنےکو تیار نہ ہوتو بغیر کسی مہلت و انتظار کے قاضی اس کا قائم مقام بن کر اس کی بیوی پر طلاق واقع کردے، چنانچہ ایسا کرنے سے اس عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی، اور وہ عورت عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح بھی کرسکے گی، اور عدت کی ابتداء قاضی کے فیصلہ کے دن سے ہوگی۔
یاد رہے کہ عدالت میں جو مقدمہ دائر کیا جائےوہ شوہر کے تعنت کی بنیاد پر "تنسیخ نکاح"کا مقدمہ ہو، خلع کا مقدمہ دائر نہ کیا جائے،اور نہ ہی خلع کا طریقہ کار اختیار کیا جائے،ورنہ فسخِ نکاح معتبر نہ ہوگا۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: {ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم من النساء} على الوطء, فاقتضى ذلك تحريم من وطئها أبوه من النساء عليه; لأنه لما ثبت أن النكاح اسم للوطء لم يختص ذلك بالمباح منه دون المحظور كالضرب والقتل, والوطء نفسه لا يختص عند الإطلاق بالمباح منه دون المحظور بل هو على الأمرين حتى تقوم الدلالة على تخصيصه الخ (ج2 صـ113 باب مایحرم من النساء ط: سہیل اکیڈمی)۔
کمافی الھندیۃ: وأما الطيب فلا يجب عليه منه إلا ما يقطع به السهوكة لا غير ويجب عليه ما يقطع به الصنان، ولا يجب الدواء للمرض، ولا أجرة الطبيب، ولا الفصد، ولا الحجامة كذا في السراج الوهاج وعليه من الماء ما تغسل به ثيابها وبدنها من الوسخ كذا في الجوهرة النيرة وفي فتاوى أبي الليث - رحمه الله تعالى - ثمن ماء الاغتسال على الزوج، وكذا ماء وضوئها عليه غنية كانت أو فقيرة، وفي الصيرفية: وعليه فتوى مشايخ بلخ وفتوى الصدر الشهيد - رحمه الله تعالى - وهو اختيار قاضي خان كذا في التتارخانية في باب الغسل وأجرة القابلة عليها حين استأجرتها، ولو استأجرها الزوج، فعليه، وإن حضر بلا إجارة فلقائل أن يقول: على الزوج؛ لأنه مؤنة الوطء و یجوز أن يقال: عليها كأجرة الطبيب كذا في الوجيز للكردري الخ(ج1صـ549 الباب السابع عشر فی النفقات ط: ماجدیۃ)۔
وفی حلیۃ الناجزۃ للحیلۃ العاجزۃ: واما المتعنت الممتنع عن الانفاق ففی مجموع الامیر ما نصہ: ان منعھا نفقۃ الحال فلھا القیام فان لم یثبت عسرہ انفق او طلق والا طلق علیہ قال محشیہ: ای طلق علیہ الحاکم من غیر تلوم اھ (73)۔
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1