میں گھر سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر فیکٹری میں کام کرتا ہوں اور فیکٹری میں ہی رہائش رکھی ہوئی ہے ، ہر ہفتے گھر جاتا ہوں اور 1 دن گھر رہ کر واپس فیکٹری آ جاتا ہوں ، رہنمائی فرمائیں میری نماز قصر پڑھنا ضروری ہے کہ مکمل نماز اور اب تک جو نماز ادا کر چکا ہوں ان کا کیا ہوگا؟
نوٹ : بذریعہ فون معلوم ہوا کہ سائل نے کبھی بھی اپنے جائے ملازمت میں اپنے رہائشی سامان سمیت پندرہ دن یا اس سے زیادہ اقامت کی نیت سے قیام نہیں کیا ، اور ابھی وہ وہاں مکمل نماز پڑھ رہا ہے ۔
اگر سائل نے ایک مرتبہ بھی اپنے رہائشی سامان سمیت پندرہ دن یا اس سے زیادہ اقامت کی نیت سے اپنی جائے ملازمت (فیکٹری) میں قیام نہ کیا ہو ،تو وہ مذکور جگہ سائل کے لئے وطنِ اقامت شمار نہ ہوگی، بلکہ سائل وہاں مسافر رہے گا ، چنانچہ سائل کے ذمہ فیکٹری میں اپنی انفرادی نمازوں میں قصر کرنا لازم ہوگا،جبکہ سائل نےحالت سفر میں جو نماز دو رکعت کے بجائے چار رکعتیں پڑھی ہیں اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ سائل نے اگر ان چار رکعت والی نمازوں کی دوسری رکعت پر قعدہ کر لیاہو اور آخر میں سجدہ سہو بھی کر لیاہو تو نماز درست ادا ہوچکی ہے، لیکن اگر آخر میں سجدہ سہو نہ کیا ہو تو وقت گزرنے سےپہلے اس نمازکا اعادہ لازم تھا ، لیکن اگر سائل نے ایسا نہ کیا ہو،تو اب وقت گزرنے کے بعد سائل کے لئے بہتر یہی ہے کہ ان نمازوں کا اعادہ کرے ، اور اگر سائل نے دوسری رکعت پر قعدہ نہ کیا ہو تو ایسی صورت میں اس کی نماز ادا نہیں ہوئی ، اب اس کا اعادہ لازم اور ضروری ہوگا۔
کما قال اللہ تعالی؛ وَإِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ أَن تَقۡصُرُواْ مِنَ ٱلصَّلَوٰةِ (سورة النساء ،الأية :101)۔
و في بدائع الصنائع : وأما بيان ما يصير المسافر به مقيما : فالمسافر يصير مقيما بوجود الإقامة، والإقامة تثبت بأربعة أشياء: أحدها: صريح نية الإقامة وهو أن ينوي الإقامة خمسة عشر يوما في مكان واحد صالح للإقامة فلا بد من أربعة أشياء: نية الإقامة ونية مدة الإقامة، واتحاد المكان، وصلاحيته للإقامة (فصل بيان ما يصير المسافر به مقيما، ج 1، ص97، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-
و في الدر المختار : (فلو أتم مسافر إن قعد في) القعدة (الأولى تم فرضه و) لكنه (أساء) لو عامدا لتأخير السلام وترك واجب القصر وواجب تكبيرة افتتاح النفل وخلط النفل بالفرض، وهذا لا يحل الخ (باب صلاة المسافر، ج 2، ص 128، ط : سعيد)-
و في رد المحتار : تحت (قوله إن قعد إلخ) لأن القعدة على رأس الركعتين فرض على المسافر لأنها آخر صلاته الخ (باب صلاة المسافر، ج 2، ص 128، ط : سعيد)-
و في الهداية : ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر وإن نوى أقل من ذلك قصر "(باب صلاة المسافر، ج 1، ص 80، ط : دار إحياء التراث العربي، بيروت)-
و في حاشية الطحطاوي على مراق الفلاح : والقصر عزيمة عندنا" لما قدمناه "فإذا أتم الرباعية و" الحال أنه "قعد القعود الأول" قدر التشهد "صحت صلاته" لوجود الفرض في محله وهو الجلوس على الركعتين وتصير الأخريان نافلة له "مع الكراهة" لتأخير الواجب وهو السلام عن محله إن كان عامدا فإن كان ساهيا يسجد للسهو "وإلا" أي وإن لم يكن قد جلس قدر التشهد على رأس الركعتين الأوليين "فلا تصح" صلاته لتركه فرض الجلوس في محله واختلاط النفل بالفرض قبل كماله (باب صلاة المسافر ، ص 419، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4