احکام حج

بچوں کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے حج کو مؤخر کرنا

فتوی نمبر :
73000
| تاریخ :
2024-05-07
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

بچوں کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے حج کو مؤخر کرنا

السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کہ میری دس سال سے شادی ہوئی ہے ،میرے دو بچے ہیں، سات سال اور نو سال کا، دونوں بیٹے ہیں میرے میاں نے مجھے حج کا بولا پر میں نے منع کر دیا کیونکہ وہ بولتا ہے کہ میں اپنے بچے ان کے امی اور ابو کے پاس چھوڑدوں پر میرا بچوں کو ان کے پاس اکیلا چھوڑنے پر دل مانتا نہیں ،اس لیے میں نے حج کا منع کر دیا ،میرے ہسبنڈ اجازت نہیں دیتے تھے کہ میں اپنی امی یا بہن کے پاس بچے چھوڑوں ،میرا سسرا ل والوں کو میں شروع سے ہی پسند نہیں ہوں، میرے ساتھ میرا سسر نے بھی کچھ ایسا حرکتیں کی ہے کہ میرا دل مانتا نہیں ہے کہ اپنی طرف سے کچھ کوشش بھی کروں، اب میرے ہسبینڈ اپنے امی کے ساتھ جا رہے ہیں حج پر اور میں نے ایک دفعہ پھر انہیں بولا کہ میں بچے اپنی امی کے پاس چھوڑ دوں میرے امی اکیلی رہتی ہے ،پر ہسبینڈ نے منع کر دیا میں نے اب نیت کری ہے انشاءاللہ جب بچے میرا بڑے ہو جائینگے میں حج پر ان کے ساتھ جاؤنگی، میں نے اپنے حج کے لیے لاکر میں پیسے بھی الگ رکھ دیے ہیں اس نیت سے کہ اگر میں مر جاؤں پہلے میری طرف سے میرے بچے یا کوئی حج کر لے، کیا میں گنہگار ہوں اس معاملہ میں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں یہ صراحت موجود نہیں کہ شوہر کی طرف سے باوجود اصرار کے سائلہ بچوں کو اپنے ساس اور سسر کے پاس مختصر عرصے کے لیے چھوڑ نے پر کیوں آمادہ نہیں ؟اسی طرح سائلہ کا شوہر بچوں کو نانی کے پاس چھوڑنے کے لیے کیوں تیار نہیں؟ تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ،تاہم اگر بچے خود سمجھدار ہوں اور اپنا خیال خود رکھ سکتے ہوں یا دادا ،دادی یا نانی کی کفالت اور سرپرستی میں مختصر عرصے کے لیے چھوڑنے میں کوئی زیادہ مسئلہ نہ ہو تو سائلہ کو چاہیے کہ بچوں کی کفالت کا کوئی مناسب انتظام کر کے جلد از جلد حج ادا کرنے کا اہتمام کرے ،البتہ اگر واقعی کوئی عذر ہو اور بچوں کی مناسب دیکھ بھال اور خیال رکھنے والا کوئی معتمد شخص نہ ہو تو ایسی صورت میں بچوں کے بڑے ہونے تک سائلہ کے لیے حج مؤخر کرنے کی گنجائش ہے،اور اسکی وجہ سے امید ہے کہ سائلہ گناہ گار بھی نہ ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع: ومنها ملك الزاد، والراحلة في حق النائي عن مكة(الی قولہ) وأما تفسير الزاد، والراحلة فهو أن يملك من المال مقدار ما يبلغه إلى مكة ذاهبا، وجائيا راكبا لا ماشيا بنفقة وسط لا إسراف فيها، ولا تقتير فاضلا عن مسكنه، وخادمه، وفرسه، وسلاحه، وثيابه، وأثاثه الخ( ج2 ص122)۔
وفیہ ایضا: (وأما)الذي يخص النساء فشرطان: أحدهما أن يكون معها زوجها أو محرم لها فإن لم يوجد أحدهما لا يجب عليها الحج(الی قولہ) والثاني: أن لا تكون معتدة عن طلاق أو وفاة؛ لأن الله تعالى نهى المعتدات بقوله عز وجل: {لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن}الخ(ج2 ص123)۔
وفی الھندیۃ: وهو فرض على الفور، وهو الأصح فلا يباح له التأخير بعد الإمكان إلى العام الثاني كذا في خزانة المفتين. فإذا أخره، وأدى بعد ذلك وقع أداء كذا في البحر الرائق وعند محمد - رحمه الله تعالى - يجب على التراخي والتعجيل أفضل كذا في الخلاصة. والخلاف فيما إذا كان غالب ظنه السلامة أما إذا كان غالب ظنه الموت أما بسبب الهرم أو المرض فإنه يتضيق عليه الوجوب إجماعا كذا في الجوهرة النيرة وثمرة الخلاف تظهر في حق المأثم حتى يفسق وترد شهادته عند من يقول على الفور، ولو حج في آخر عمره فليس عليه الإثم بالإجماع، ولو مات، ولم يحج أثم بالإجماع كذا في التبيين الخ(ج1 ص216)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ حسن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73000کی تصدیق کریں
0     692
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات