میں ایک غیر شادی شدہ بیروزگار ہوں، میری عمر 27 سال ہے، میں اکلوتا ہوں، میرا ایک ہی فلیٹ ہے جو میرے نام پر ہے جس میں ابھی میری رہائش ہے اس فلیٹ کی قیمت 60 لاکھ ہے، اس کو بیج کر کرایہ پر جانا چاہتا ہوں، تاکہ آدھی رقم سے کاروبار اور آدھی رقم میزان بینک میں جمع کروادیں تاکہ اس کے منافع سے کرایہ دے سکوں، کیا فلیٹ بیچتے وقت مجھ پر حج فرض ہوگا؟ میرے ساتھ صرف میری والدہ ہیں جو سرکاری نوکری سے ریٹائر ہونے والی ہیں۔
مذکور فلیٹ کی فروختگی کے بعد اگر سائل کے پاس ایام حج میں اتنی مالیت موجود ہو، جس میں سے حج کے اخراجات نکالنے کے بعد اتنی رقم بچ جاتی ہو، جس سے وہ اپنا مناسب گزر اوقات کرسکے ، تو ایسی صورت میں شرعاً سائل پر حج کی ادائیگی لازم ہوگی۔
کمافی ردالمحتار: (قوله يشترط بقاء رأس مال لحرفته) كتاجر ودهقان ومزارع كما في الخلاصة، ورأس المال يختلف باختلاف الناس بحر.قلت والمراد ما يمكنه الاكتساب به قدر كفايته وكفاية عياله لا أكثر لأنه لا نهاية له الخ ( ج2 ص462 کتاب الحج ط سعید)۔
وفی الدرالمختار: وحرر في النهر أنه يشترط بقاء رأس مال لحرفته إن احتاجت لذلك وإلا لا وفي الأشباه معه ألف وخاف العزوبة إن كان قبل خروج أهل بلده فله التزوج ولو وقته لزمه الحج (و) فضلا عن (نفقة عياله) ممن تلزمه نفقته لتقدم حق العبدالخ (ج2 ص462 کتاب الحج ط سعید)۔