قرض

جاز کیش سے لون لینا اور سروس چارجز کی مد میں اضافی رقم ادا کرنادرست ہے؟

فتوی نمبر :
73551
| تاریخ :
2024-05-31
معاملات / مالی معاوضات / قرض

جاز کیش سے لون لینا اور سروس چارجز کی مد میں اضافی رقم ادا کرنادرست ہے؟

السلام علیکم ! کیا جاز کیش سے لون لینا اور سروس چارجز یا ٹیکس کی مد میں زیادہ رقم اداکرنا جائز ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جاز کیش لون دینے کے بعدکمپنی کی طرف سے سروس چارجز یاٹیکس کے نام پر جو اضافی رقم وصول کی جاتی ہے وہ شرعاً سود کے زمرے میں آتی ہے، لہذا جازکیش لون لینے سے بہرصورت احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی التنزیل العزیز: الَّذِينَ يَأكُلُونَ الرِّبَوٰا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِی يَتَخَبَّطُهُ الشَّيۡطَٰنُ مِنَ المَسِّ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُوٓا إِنَّمَا الۡبَيۡعُ مِثۡلُ الرِّبَوٰا وَ أَحَلَّ اللَّهُ الۡبَيۡعَ وَ حَرَّمَ الرِّبَوٰا، الخ ( سورۃ البقرۃ، الآیۃ: 275 )-
و فی احکام القرآن للجصاص: و قال أبو بكر أصل الربا فی اللغة هو الزيادة، ( إلی قولہ ) و الربا الذي كانت العرب تعرفه و تفعله إنما كان قرض الدراهم و الدنانير إلى أجل بزيادة على مقدار ما استقرض على ما يتراضون به، الخ ( باب الربا، ج 1، ص 464، ط: سھیل اکیڈیمی )-
و فیہ ایضاً: و الثانی: أنه معلوم أن ربا الجاهلية إنما كان قرضا مؤجلا بزيادة مشروطة، فكانت الزيادة بدلا من الأجل، فأبطله الله تعالى و حرمه، ( إلی قولہ ) فإذا كانت عليه ألف درهم مؤجلة فوضع عنه على أن يعجله فإنما جعل الحط بحذاء الأجل، فكان هذا هو معنى الربا الذی نص الله تعالى على تحريمه، و لا خلاف أنه لو كان عليه ألف درهم حالة فقال له: أجلنی و أزيدك فيها مائة درهم، لا يجوز، لأن المائة عوض من الأجل، كذلك الحط فی معنى الزيادة، إذ جعله عوضا من الأجل، و هذا هو الأصل فی امتناع جواز أخذ الأبدال عن الآجال، الخ ( و من أبواب الربا الذی تضمنت الآية تحريمه، ج 1، ص 367، ط : سھیل اکیڈیمی )-
و فی الفقہ الإسلامی: قال الحنفية فی الراجح عندهم: كل قرض جر نفعا حرام إذا كان مشروطا، فإن لم يكن النفع مشروطا أو متعارفا عليه فی القرض فلا بأس به الخ ( ‌‌القسم الثالث: العقود أو التصرفات المدنية المالية، ‌‌الفصل الثانی: القرض، ‌‌القرض الذی جر منفعة، ج 4، ص 515، ط: مکتبۃ رشیدیۃ )-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبداللہ اسد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73551کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • حرام آمدنی والے سے قرض لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   قرض 4
  • حقوق العباد میں کوتاہی کی تلافی کیسے ممکن ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   قرض 0
  • کیاشہادت کی وجہ سے قرض بھی معاف ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   قرض 0
  • ریال میں دیا ہوا قرض کس کرنسی میں واپس کرنا ہوگا؟

    یونیکوڈ   قرض 0
  • مقروض شخص کا کاروبار میں پیسہ لگانے کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • میت پر قرض کا دعوی کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • میزان بینک سے ہوم فائنانس اسکیم کا حصہ بننا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   قرض 1
  • ایزی پیسہ سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 3
  • بچت کمیٹی کی ادائیگی کی تاخیر پر جرمانہ کی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • ریال میں دیا ہوا قرض پاکستانی کرنسی میں واپس کرنے کے مطالبہ کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • ایزی پیسہ لون کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 2
  • قرض کی ادائیگی کو دوسرے ملک کی کرنسی سے مشروط کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • چائنیز کرنسی میں قرض دیکر پاکستانی کرنسی سے وصول کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • قرض کی ادائیگی تک دکان کا کرایہ مانگنا

    یونیکوڈ   انگلش   قرض 0
  • قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • کریڈٹ کارڈ پر واجب الادا قرض نہ لوٹانے کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • مروجہ کرنسی کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • قرض کی واپسی کو کسی اور چیز کے ساتھ معلق کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • When returning Dirhams obtained, on a later date, What is the rate applicable to repay??

    یونیکوڈ   انگلش   قرض 0
  • اولاد باپ کو انکی زندگی میں جو کچھ بھی دے اگر قرض کی تصریح نہ ہو تو اس کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • پراویڈنٹ فنڈ کی مد میں قرض لے کراضافہ کے ساتھ لوٹانا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • ریال کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کر کے قرض دینے کے بعد مقروض سے ریال کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • قرض معاف کرنے کے بعد اس کا تقاضہ کرنا

    یونیکوڈ   انگلش   قرض 0
  • ساس سسر کا بہو سے حق مہر میں دیا گیا سونا لے کر فروخت کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • عمرہ کمیٹی کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
Related Topics متعلقه موضوعات