میں اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہوں،شادی کے وقت میں نے اس کو دو تولہ سونا گفٹ دیا تھا،جوکہ بعدمیں ہم نے 150000کا بیچ کر نیا گھر خریدا تھا،اب جب میں نے اس کو طلاق دے دی ہے،تو کیا میں اس کو دو تولہ سونا واپس دونگا یا پیسے؟
سائل کی بیوی نے اگر مذکور دو تولہ سونا سائل کو بطورِ قرض دیا تھاتو سائل کے ذمہ مذکور دو تولہ سونا یا آج کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق اس کی رقم واپس کرنا شرعاً لازم ہے۔
تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو مکمل وضاحت کے ساتھ دوبارہ لکھ کر ارسال کردیں تو ان شاء اللہ غور وفکر کے بعدحکمِ شرعی سے آگاہ کردیا جائیگا۔
کمافی الدر المختار: (وصح) القرض (في مثلي) هو كل ما يضمن بالمثل عند الاستهلاك (لا في غيره) من القيميات كحيوان وحطب وعقار وكل متفاوت لتعذر رد المثل. واعلم أن المقبوض بقرض فاسد كمقبوض ببيع فاسد سواء فيحرم الانتفاع به لا بيعه لثبوت الملك جامع الفصولين (فيصح استقراض الدراهم والدنانير وكذا) كل (ما يكال أو يوزن أو يعد متقاربا فصح استقراض جوز وبيض) وكاغد عددا (ولحم) وزنا وخبز وزنا وعددا كما سيجيء (استقرض من الفلوس الرائجة والعدالي فكسدت فعليه مثلها كاسدة) و (لا) يغرم (قيمتها) وكذا كل ما يكال ويوزن لما مر أنه مضمون بمثله فلا عبرة بغلائه ورخصه ذكره في المبسوط من غير خلاف وجعله في البزازية وغيرها قول الإمام وعند الثاني عليه قيمتها يوم القبض وعند الثالث قيمتها في آخر يوم رواجها وعليه الفتوى الخ(ج5 ص161 کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ ط: سعید)۔
وفی رد المحتار تحت (قولہ ھلک بالدین)أن الديون تقضى بأمثالها لا أنفسها لأن الدين وصف في الذمة لا يمكن أداؤه، لكن إذا أدى المديون وجب له على الدائن مثله فتسقط المطالبة لعدم الفائدة الخ(ج6 ص525 کتاب الرھن ط: سعید)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0