السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ایک عورت جس کے پاس تقریبا 15 تولہ سونا موجود ہے، کیا اس وجہ سے ان پرحج فرض ہو جاتا ہے ؟ اگر حج فرض ہو جاتا ہے اور حج کی ادائیگی کے لیے ان کے پاس پیسے موجود نہیں ہیں، جس کی وجہ سے فریضہ حج کی ادائیگی میں تاخیر واقع ہو رہی ہو تو کیا اس وجہ سے ان کو گناہ ملتا رہے گا ؟ براہِ کرم اس مسئلہ کے متعلق رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور عورت کے پاس اگر موسم ِ حج میں پندرہ تولہ سونا موجود ہو، تو فی زماننا چونکہ اس سونے کی مالیت سے حج کی ادائیگی کے اخراجات پورے ہوسکتے ہیں، اس لئے ایسی عورت پر حج کی ادائیگی فرض ہوجائے گی، البتہ اب اگر کوئی محرم اس کے ساتھ حج پر جانے کو تیار نہ ہو، اور نہ ہی اس کے پاس اتنی رقم ہو کہ وہ کسی محرم کو بھی اپنے ساتھ حج کے لئے لے جاسکتی ہو، تو ایسی صورت میں اس عورت پر فی الفور حج کی ادائیگی تو اگر چہ لازم نہ ہوگی، تاہم محرم میسر ہو تے ہی اس کے ذمہ حج ادا کرنا لازم ہوگا، جبکہ آخری عمر تک محرم میسر نہ ہونے یا کسی بھی وجہ سے ادائیگی حج نہ کرنے کی صورت میں اس پر حجِ بدل کی وصیت کرنا لازم ہوگا۔
کما فی الھندیۃ: وتفسير ملك الزاد والراحلة أن يكون له مال فاضل عن حاجته، وهو ما سوى مسكنه ولبسه وخدمه، وأثاث بيته قدر ما يبلغه إلى مكة ذاهبا وجائيا راكبا لا ماشيا وسوى ما يقضي به ديونه ويمسك لنفقة عياله، ومرمة مسكنه ونحوه إلى وقت انصرافه الخ (كتاب المناسك، الباب الأول، ج1 ص 216 )۔
وفیھا ایضاً: إن كان صاحب ضيعة إن كان له من الضياع ما لو باع مقدار ما يكفي الزاد والراحلة ذاهبا وجائيا ونفقة عياله، وأولاده ويبقى له من الضيعة قدر ما يعيش بغلة الباقي يفترض عليه الحج الخ (كتاب المناسك، الباب ج1ص:218)۔
وفی الدر المختار: ( و ) مع ( زوج ) و لو عبداً أو ذمیاً أو برضاع (بالغ) قید لھما کذا فی النھر بحثا ( عاقل و المراھق کبالغ ) جوھرۃ ( غیر مجوسی و لا فاسق ) لعدم حفظھما ( مع ) وجوب النفقۃ لمحرمھا الخ ( کتاب الحج ، ج 2، ص 464 ، ط : سعید ) ۔