جو لوگ میقات میں رہتے ہیں وہ کس قسم کا حج کر سکتے ہیں، تمتع، قران یا افراد؟ اگر کوئی شخص میقات کے اندر جدہ میں رہتا ہو، اس نے حج کی نیت کی ہو اور وہ شوال، ذی قعدہ یا ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں میں عمرہ کرے تو اس پر دم دینا واجب ہے؟ اگر اس نے متعدد عمرے کیے ہیں تو اسے متعدد دم دینے ہوں گے یا ایک دم کافی ہوگا؟ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
واضح ہوکہ اہل ِمکہ اور اہلِ حل ( میقات کے اندر رہنے والوں) کے لیے صرف حج افراد کی اجازت ہے، حجِ تمتع یا حجِ قران کرنا شرعاً جائز نہیں، لہٰذا اگر کوئی جدہ (حل) کا رہائشی ہو اور وہ حج کی نیت بھی کرچکا ہو اور اس کے بعد اگر وہ اشہر حج میں عمرہ کرلے تو اس کا یہ حج، حجِ تمتع کہلائے گا، جس کی وجہ سے اس پر ایک دم لازم ہوگا، چاہے عمرہ اس نے ایک بار کیا ہو یا متعدد مرتبہ۔
کما فی الدر المختار و رد المحتار: (و المكي و من في حكمه يفرد فقط) و لو قرن أو تمتع جاز و أساء، و عليه دم جبر، (و فی الرد) (قوله و من في حكمه) أي من أهل داخل المواقيت۔اھ (2/ 539)۔
وفی ردالمحتار: يزاد على الأيام الخمسة ما في اللباب وغيره من كراهة فعلها في أشهر الحج لأهل مكة، ومن بمعناهم أي من المقيمين، ومن في داخل الميقات لأن الغالب عليهم أن يحجوا في سنتهم، فيكونوا متمتعين، وهم عن التمتع ممنوعون، وإلا فلا منع للمكي عن العمرة المفردة في أشهر الحج، إذا لم يحج في تلك السنة، ومن خالف فعليه البيان شرح اللباب، ومثله في البحر، وهو رد على ما اختاره في الفتح من كراهتها للمكي، وإن لم يحج ونقل عن القاضي عيد في شرح المنسك أن ما في الفتح قال العلامة قاسم إنه ليس بمذهب لعلمائنا ولا للأئمة الأربعة، ولا خلاف في عدم كراهتها لأهل مكة. اهـ.(ج2، ص473،ط۔سعید)۔