میرے والد کے فوت ہونے پر ان کا قرض ہمارے ایک عزیز نے معاف کردیا اور ہمارے بار بار کہنے پر بھی لینے سے انکار کرتے رہے ، لیکن اب اٹھارہ سال بعد وہ اس رقم کا تقاضا کررہے ہیں اور وہ بھی اس کرنسی میں جس میں ہم نے قرض نہیں لیا تھا۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا اب ان کا قرض واپس کرنا ہم پر فرض ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو کیا اسی کرنسی میں دینا ہوگا، جس میں انکا تقاضا ہے؟
سوال میں درج تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اور واقعہً سائل کے والد کی وفات کے بعد مذکور عزیز نے قرض معاف کردیا تھا، جس پر سائل کے پاس گواہان بھی موجود ہوں، تو اب اٹھارہ سال بعد دوبارہ اس قرض کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے ، جس سے احترازلازم ہے۔
کما فی الاشباہ والنظائر: أن الساقط لا يعود الخ ( ج 1 ص 274 )۔
وفی الفقہ الإسلامی وأدلتہ: ولكن يصح إبراء الدين الثابت في الذمة كضمان قيمة المغصوب المتلف، ويصح الإبراء عن الدعوى المتعلقة بالأعيان. ولا يصح إقالة الإبراء عن الدين ولا إقالة السلم؛ لأن الإبراء يسقط الدين من الذمة، والساقط لا يعود؛ لأنه معدوم، والمسلم فيه دين سقط. ويعد الإبراء من الدين تبرعاً؛ لأن فيه معنى التمليك، وإن كان في صورة إسقاط. الخ ( ج 6 ص 4370 )۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0