احکام حج

حرام مال جمع ہونے سے حج فرض ہونے کا حکم

فتوی نمبر :
77893
| تاریخ :
2024-09-05
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

حرام مال جمع ہونے سے حج فرض ہونے کا حکم

جس شخص کے پاس صرف حرام مال ہی ہو تو کیا اس پر حج فرض ہو گا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر کسی کے پاس حلال مال با لکل نہ ہو اور فقط خالص حرام مال اس قدر موجود ہو کہ جس سے حج کے اخراجات پورے ہو جاتے ہوں توچونکہ ایسے شخص پر یہ تما م حرام مال صدقہ کرنا یا مالک کے معلوم ہونے پر اسے واپس کرنا ضروری ہوتا ہے، اس لئے اس مال کی موجودگی کی وجہ سے حج اس کے مالک پر فرض نہ ہوگا ۔تاہم اگر وہ اس حرام مال سے حج کر لیتا ہے، تو اس کا فریضئہ حج ساقط ہو جائےگا،جس کے بعد اسے حلال مال میسر ہوجانے کی صورت میں اس پر دوبارہ حج ادا کرنا لازم نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار تحت قولہ: (قولہ کما لو کان الکل حبیثا) فی القنیۃ لو کان الحبیث نصابا لا یلزمہ الزکاۃ لان الکل واجب التصدق علیہ فلا یفید ایجاب التصدق ببعضہ اھ و مثلہ فی البزازیۃ (قولہ کما فی النہر) أی اول کتاب الزکاۃ االخ من ملک اموالا غیر طیبۃ او غصب اموالا و خلطھا ملکھا با لخلط و یصیر ضامنا،و ان لم یکن لہ سواھا نصاب فلا زکاۃ علیہ فیھا و إن بلغت نصاباً لأنہ مدیون و مال المدیون لا ینعقد سببا لوجوب الزکاۃ عندنا فأفاد بقولہ و إن لم یکن لہ سواھا نصاب الخ (ج 2 ص 291 کتاب الزکاۃ ، باب الغنم، ط: ایچ ایم سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رحمان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77893کی تصدیق کریں
0     562
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات