قرآن وحدیث کی روشنی میں ہمیں بتائیں کہ ایک آدمی سود کھاتا ہے، اور اس کے لڑکے کا اسی بات پے تعلق نہیں ہیں، وہ لڑکا حج پر جانا چاہتا ہے، اس لڑکے کو اپنے باپ سے اجازت لینا ضروری ہے یا نہیں؟
۲: اس لڑکے کو حج پے جانے سے پہلے اپنے والدسے معافی مانگنا ضروری ہے یا نہیں؟ اور اگر ضروری ہے ،وہ لڑکا اس کے گھر پر جائے والد کے گھر پر جائے اور اس لڑکے کو والد کے یہاں سے کھانا پینا دیا جائے، تو وہ کھانا اس لڑکے کے لیے جائز ہیں یا نہیں ؟
صورت مسئولہ میں والدین سے اجازت لیکر جانا بہتر اور والد کی کمائی اگر مخلوط ہو (اور حلال غالب ہو)تو اس کے ہاں سے کھانے کی بھی گنجائش ہے ۔
ففي الفتاوى الهندية: ويكره الخروج إلى الحج إذا كره أحد أبويه إن كان الوالد محتاجا إلى خدمة الولد اھ (1/ 220)۔
وأيضا: أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس اھ (5/ 342)۔ والله اعلم بالصواب