احکام حج

سود خور والد کے گھر کھانا کھانے اور اس سے حج پر جانے کی اجازت لینے کا حکم

فتوی نمبر :
80037
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

سود خور والد کے گھر کھانا کھانے اور اس سے حج پر جانے کی اجازت لینے کا حکم

قرآن وحدیث کی روشنی میں ہمیں بتائیں کہ ایک آدمی سود کھاتا ہے، اور اس کے لڑکے کا اسی بات پے تعلق نہیں ہیں، وہ لڑکا حج پر جانا چاہتا ہے، اس لڑکے کو اپنے باپ سے اجازت لینا ضروری ہے یا نہیں؟
۲: اس لڑکے کو حج پے جانے سے پہلے اپنے والدسے معافی مانگنا ضروری ہے یا نہیں؟ اور اگر ضروری ہے ،وہ لڑکا اس کے گھر پر جائے والد کے گھر پر جائے اور اس لڑکے کو والد کے یہاں سے کھانا پینا دیا جائے، تو وہ کھانا اس لڑکے کے لیے جائز ہیں یا نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں والدین سے اجازت لیکر جانا بہتر اور والد کی کمائی اگر مخلوط ہو (اور حلال غالب ہو)تو اس کے ہاں سے کھانے کی بھی گنجائش ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الفتاوى الهندية: ويكره الخروج إلى الحج إذا كره أحد أبويه إن كان الوالد محتاجا إلى خدمة الولد اھ (1/ 220)۔
وأيضا: أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس اھ (5/ 342)۔ والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حسین تاج عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 80037کی تصدیق کریں
0     750
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات