میری ساس نے میری بیوی کے سونے کے دو سیٹ فروخت کر دیے، اور ان پیسوں سے ہم نے کرائے کا فلیٹ لیا، اور ایڈوانس دیا نومبر 2008 ء میں، اسی دوران میں بے روزگار ہو گیا ،اور میں نومبر 2008ء سے مئی 2009 ء تک بے روزگار رہا۔ دو مہینے ہم کرائے کے فلیٹ میں رہے ،جنوری 2009 ء کو میں اپنے والدین کے گھر شفٹ ہو گیا، اسی دوران اپنی بیوی کا ایک سونے کا سیٹ میں نے اس کی اجازت سے فروخت کیا ،یہ تمام پیسے میری بیٹی، بیوی اور مجھ پر خرچ ہوئے، علیحدگی کی صورت میں اس زیور کے بارے میں شریعت کے حوالے سے کیا نتیجہ سامنے آتا ہے ؟
سائل نے بیوی کا جو سیٹ فروخت کیا ،وہ اس کے ذمہ قرض ہے ،جس کی ادائیگی لازم ہے، اور جو ساس نے فروخت کیا ،وہ اس نے اگر بطور قرض لیا ہو تو اس کی واپسی اسی کے ذمہ لازم ہے۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0