کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک بینک کسی آدمی کو دو کروڑ روپے دیدے بطورِ قرض ،اس شرط پر کہ اس کا دس لاکھ روپیہ منافع ادا کرنا ہوگا، اور یہ سارا روپیہ قسطوار ادا کرنا ہوگا، اور وہ آدمی اس دو کروڑ روپے کے ذریعے کوئی چیز خریدے ،تو جتنے قسط آپس میں طے ہو چکے ہیں، اس کے ادا نہ کرنے پر بینک والے یہ شرط لگائیں کہ ہم آپ سے اس چیز کو روک لینگے، اور جب آپ قسط ادا کروگے، تب ہم آپ کی چیز کو واپس کر لینگے، تو یہ آپس میں معاملہ کیسا ہے؟
بینک یا کسی فرد کا مذکورہ طریقہ سے قرض لے کر اس پر قسطوار منافع لینا صریح سودی معاملہ ہے ،جو بلاشبہ ناجائز اور حرام ہے، لہٰذا دونوں (یعنی شخصِ مذکور اور متعلقہ ادارہ) پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس معاملہ سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کرنے کی فکر کریں، نیز متعلقہ ادارہ پر بھی لازم ہے کہ وہ قرض دی ہوئی رقم ہی واپس وصول کرے، اس سے زائد لینے سے مکمل حتراز لازم ہے۔
ففي حاشية ابن عابدين: قوله ( كل قرض جر نفعا حرام ) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر اھ (5/ 166) -
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: " هم سواء " . رواه مسلم (2/ 134) -
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0