مسئلہ یہ ہے کہ میں نے ایک مکان خریدا۔ جس کے لئے دولاکھ روپے میں نے اپنے دوست سے یہ کہہ کر لئے کہ یہ پیسے کچھ مہینوں بعد میں آپ کو واپس لوٹا دوں گا ، جب تک اس مکان کی ایک منزل کا کرایہ میں لوں گا، اور ایک کا وہ لیں گے۔ جس میں سے چار مہینوں کا کرایہ وہ لے چکے ہیں ،اور ایک لاکھ روپے میں نے انہیں واپس کر دیے ہیں، لیکن انہوں نے یہ کہا کہ یہ ایک لاکھ روپیہ آپ کا میرے پاس امانت ہے، کیونکہ ایسا نہ ہو کہ اس میں کوئی حرام والا مسئلہ ہو ، کیونکہ میرا دوست نمازی پرہیزگار، ایماندار اور حق حلال روزی کمانے والا اللہ کا نیک بندہ ہے، انہوں نے میری توجہ اس طرف دلائی ہے کہ یہ ہماری لین دین کہیں اسلام کے اصولوں کے خلاف تو نہیں ۔ کیا ہم اس مکان کی دوبارہ قیمت لگا کر وہ اپنی رقم اور میں اپنی رقم جو کہ دولاکھ اسی ہزار روپے ہے ۔ ہم دونوں نفع و نقصان کے برابر شریک ہو جائیں یا آپ اس مسئلہ کا حل بتا ئیں تا کہ ہم دونوں گناہ سے بچیں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائے۔ آمین!
صورتِ مسئولہ میں مذکور ترتیب کے موافق قرض کا لین دین بلا شبہ سودی معاملہ ہے، جو کہ شرعاً ناجائز و حرام اور واجب الاحترار ہے ۔ البتہ اگر دونوں فریق مذکور ناجائز معاملہ سے بچنا چاہتے ہوں ،تو اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ قرض خواہ مذکور چار ماہ کرایہ مالک مکان کو واپس لوٹا دے ،یا اصل قرض کی رقم میں شمار کر کے بقیہ رقم لے لے۔
اور اگر یہ نا ممکن ہو تو پھر مذکور مکان میں خریداری کے تناسب سے یا کم وبیش فیصد کے اعتبار سے باہم اس طور پر شراکت کا معاملہ کر لیں کہ سائل اس پر اپنا آدھا مکان فروخت کرکے اسے اپنا شریک بنا لے اور کرایہ باہمی مشورہ سے لینا طے کر لیں ۔ اگر چہ یہ بیچنا اصل رقم سے زائد کے عوض میں ہی کیوں نہ ہو، مگر شرعاً جائز اور درست ہے۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0