جناب مفتی صاحب السلام علیکم!
میرا نام کامران غفور ہے، میں کینیڈا میں رہائش پذیر ہوں، مجھے یہاں رہتے ہوئے ۵ سال ہو چکے ہیں، میں اپنے بھائی کے ساتھ رہتا ہوں، میرے بھائی شادی شدہ ہیں، اور ماشاء اللہ سے ان کے دو بچے ہیں، میرے بھائی کو کینیڈا میں رہتے ہوئے ۸ سال ہو چکے ہیں، میرے بھائی ایک بیڈ روم کے اپارٹمنٹ میں کرائے پر رہتے ہیں،میں بھی ان کے ساتھ رہتا ہوں ، اپارٹمنٹ کا ماہانہ کرایہ 1000 ڈالر ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ میری شادی بھی ابھی حال ہی میں ہوئی ہے ، اور بھائی کے بچے بھی ماشاء الله سے بڑے ہو رہے ہیں ، ہم دونوں بھائیوں کا ارادہ ساتھ ہی رہنے کا ہے، اب ہمیں ۳/۴ بیڈ روم کے گھر یا اپارٹمنٹ کی ضرورت درپیش ہے، جس کا کرایہ تقریباً ۱۵۰۰ ڈالر ماہانہ پڑےگا۔
اب ہم دونوں بھائی کا اپنا گھر خریدنے کا ارادہ ہو رہا ہے، کینیڈا میں گھر خریدنے کے لئے ہمیں بینک سے لون لینا پڑےگا، بینک جو لون دےگی وہ کچھ پرسنٹ انٹرسٹ پر دےگی، جو ہمیں ماہانہ ادا کرنا پڑےگا، جس کی مدت تقریباً ۲۰ سال ہوگی۔ ہمیں ماہانہ بینک کو ۱۵۰۰ ڈالر ادا کرنے پڑیں گے جو کہ اتنا ہی ہے جو ہم کرائے میں ادا کریں گے۔ مگر خریدنے پر یہ ہے کہ مستقبل میں چیز ہماری اپنی ہو جائےگی۔ (ان شاء اللہ)
کینیڈا میں رہتے ہوئےبچت کرنا بہت مشکل ہے، وہ پاکستان آنے جانے میں ہی خرچ ہو جاتا ہے ، بچت کی ایک یہ ہی صورت ہے کہ گھر خرید لیا جائے، جہاں ہم 1500 ڈالر کرایہ ادا کریں گے وہاں ہم بینک بینک کو ۱۵۰۰ ڈالر ماہانہ ادا کر کے ایک گھر کے مالک بن جائیں، یہی ہماری ایک بچت ہوگی، مگر اب مسئلہ سود کا ہے۔
اتنے عرصے کینیڈا میں رہتے ہوئے بھی سود کی بناء پر مکان خریدنے کا ارادہ نہیں کیا تھا، اور ہمیں اتنے عرصے میں اس بات کا بھی اندازہ ہو چکا ہے کہ ہم بچت کر کے کیش پر بھی گھر نہیں خرید سکتے ، میں نے تمام صورتِ حال سے آپ کو آگاہ کر دیا ہے ۔ اب آپ ہمیں قرآن وحدیث کی روشنی میں صحیح رہنمائی فرمائیں اور اگر کوئی صورت نکلتی ہے، جس سے ہمارا مسئلہ حل ہو جائے تو اس سے ہمیں آگاہ کیجیے تاکہ ہم صحیح فیصلہ کر سکیں۔الله آپکو جزائے خیر دے (آمین)
سائل اور اس کے بھائی کا بینک سے سود پر قرض لینا جائز نہیں، البتہ نقد میں یا بینک کے علاوہ کسی دوسرے ذریعہ سے قسطوں پر مکان خریدنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو اس صورت میں بینک اگر مکان خرید کر یا پلاٹ خریدنے کے بعد اس پر مکان بنوا کر زیادہ قیمت کے عوض قسطوں پر فروخت کر دے، تو سائل اور اس کے بھائی کیلئے اس طرح مکان خریدنے کی گنجائش ہے، اور اس صورت میں نقد کے مقابلے میں جو زائد رقم لی جائے، وہ شرعاً سود کے زمرے میں بھی نہیں آئے گی۔ چاہےاس کی ادائیگی بیس سال میں ہو یا اس سے کم وبیش مدت میں۔ فقط
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0