کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
۱: زید نے عمرو سے پانچ لاکھ روپے بطورِ قرض مطالبہ کیا، جبکہ عمرو نے کہا کہ رقم دیدونگا،لیکن سال بعد آپ نے سات لاکھ دینے ہونگے، اسی پر دونوں راضی ہو جاتے ہیں، لیکن تھوڑی دیر بعد جب مکان تبدیل کر لیتے ہیں ،تو زید سود سے بچنے کے لئے عمرو سے کہتا ہے کہ میں نے ٹوٹل سات لاکھ نہیں دینے، بلکہ ایک ہزار روپے کم سات لاکھ دینے ہیں، جس پر دونوں اکتفاء کر لیتے ہیں۔ تو کیا یہ صورت اختیار کرنے سے سود کا شبہ ختم ہو سکتا ہے؟
۲:عمرو گاڑی کی خرید وفروخت کا کاروبار کرتا ہے، جبکہ زید عمرو کے پاس جا کر کہتا ہے کہ آپ اپنی طرف سے میرے لئے پانچ لاکھ روپے اسی کاروبار میں شامل کر لیں ،میں سال بعد ادا کر دونگا ،اور عمرو کہتا ہے کہ میں رقم شامل کر دونگا، لیکن سال بعد آپ نے سات لاکھ دینے ہونگے، اسی بات پر دونوں راضی ہو جاتے ہیں، اور روزانہ جتنا نفع آئےگا، سال کے آخر تک زید کو ملتا رہےگا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ کاروبار جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا یہ کاروبار سودی کاروبار ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور دونوں صورتیں ناجائز وحرام اور سود پر مبنی ہیں، اس قسم کی صورتیں اختیار کرنے سے احتراز لازم ہے۔ البتہ اس کی یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ زید عمرو سے بغیر کسی اضافی رقم طے کیے قرض لے لے، پھر اگر وہ اس رقم کو عمرو کے کاروبار میں بطورِ شرکت شامل کر لے ،اور اس پر آنے والے منافع میں اپنا حصہ بھی رکھ لے تو یہ شرعاً بھی جائز اور درست ہے۔
ففي المبسوط للسرخسي: «ونهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن قرض جر منفعة» وسماه ربا اھ (14/ 35)۔
وفيھا أیضاً: فنقول: المنهي عنه هي المنفعة المشروطة أما إذا لم تكن مشروطة فذلك جائز؛ لأنه مقابلة الإحسان بالإحسان وإنما جزاء الإحسان الإحسان اھ (14/ 37)۔
وفي الدر المختار: وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166)۔
وفي الدر المختار: (و) لذا (تصح) عاما وخاصا ومطلقا ومؤقتا و (مع التفاضل في المال دون الربح وعكسه، وببعض المال دون بعض، وبخلاف الجنس كدنانير) من أحدهما (ودراهم من الآخر، و) بخلاف الوصف كبيض وسود وإن تفاوتت قيمتهما والربح على ما شرطا (و) مع (عدم الخلط) لاستناد الشركة في الربح: إلى العقد لا المال اھ (4/ 312)۔ والله أعلم بالصواب!
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0